سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 386 of 418

سیلابِ رحمت — Page 386

سیلاب رحمت ہے۔وزن تو اس میں بھی نہیں ٹوٹتا۔صرف پڑھنے کے انداز کا فرق ہے۔کسی لفظ پر زیادہ زور دے کر پڑھا جائے یا کم زور دے کر پڑھا جائے۔تو اس سے بعض اوقات شعر کا وزن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے مثلاً اس نظم کا پہلا مصرع ہے: اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا لفظ میں اس مصرع کے دوسرے نصف میں واقع ہے۔لیکن جو اسے پہلے حصہ کے ساتھ ملاتے ہیں وہ وزن توڑ دیتے ہیں۔جیسا کہ قادیان میں پڑھنے والے نے یہ مصرع پڑھا ہے اور جس جگہ زور آنا چاہئے اس سے ہٹا کر دوسرے لفظ منتقل کرنے کے نتیجہ میں بالکل بے وزن مصرع لگ رہا ہے۔پہلے مصرع کے نصف کے آخری حرف کا قدم دوسرے نصف کے شروع میں جا پڑنے کے بہت سے نمونے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عربی فارسی کلام میں ملتے ہیں اور شعراء کے نزدیک ایسا کرنا جائز ہے۔ایسی صورت میں اگر اس کو پہلے حصے سے ملا کر پڑھیں تو وزن ٹوٹ جائے گاور نہ نہیں۔بیسویں شعر میں لفظ انوار کے بارے میں آپ نے لکھا ہے کہ ہندی تسلسل میں اجنبی لگ رہا ہے۔اس وجہ سے دوسرے مصرع کو یوں ہونا چاہئے : جس سے نور کے سوتے پھوٹے۔روشنیوں کا جوسا گر تھا اس نظم کا مزاج ملا جلا ہے۔یہ صرف سکھوں اور ہندوؤں کے لئے 382