سیلابِ رحمت — Page 385
سیلاب رحمت تو پہلا مصرع تبدیل کر کے الفضل کو ترمیم کے لئے لکھ دوں گا ورنہ اس شعر کو حذف کرنے کیلئے اعلان کروایا جا سکتا ہے۔66 ( مکتوب 12 نومبر 1991ء) بحر عالم میں اک بپا کر دو، پیار کا غلغلہ تلاطم عشق خاکسار نے پہلے مصرع میں اک کی جگہ 'تم تجویز کیا۔جو حضور نے از راه شفقت منظور فرمالیا۔مگر جب مسودہ اصلاح کیلئے گیا تھا پھر اک ہی تحریر کروایا۔میرے توجہ دلانے پر آپ نے بڑا دلچسپ جملہ لکھا: بحر عالم میں اک بپا کر دو والے مصرع میں اک کی بجائے تم کی اجازت دی ہوگی لیکن بادل نخواستہ دی ہوگی کہ آپ کی ہر بات کا تو انکار نہیں ہوسکتا۔ویسے مجھے تو اک کے ساتھ زیادہ پسند ہے۔“ ( مکتوب 5 دسمبر 1993ء) نظم نمبر 26 اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا اس نظم میں انیسواں شعر ہے: آخر دم تک تجھ کو پکارا، آس نہ ٹوٹی دل نہ ہارا مصلح عالم باپ ہمارا، پیکر صبر و رضا رہبر تھا خاکسار کی معمولی سی ترمیم کی درخواست پر آپ نے اصولی بحث کے ساتھ اچھی طرح سمجھایا۔تحریر فرماتے ہیں: دل نہ ہارا کی بجائے آپ نے دل بھی نہ ہارا کی تجویز دی 381