سیلابِ رحمت — Page 382
سیلار رحمت بھاگتا پھرے تو یہ اچھا عمل نہیں۔اگر یار کمانے کے اظہار بیان پر اعتراض ہے۔تو یہی محاورہ تو اس شعر میں میری جان ہے اور شعر کی بھی۔یار یونہی نہیں مل جاتے ، کمانے پڑتے ہیں“ نظم نمبر 22 ( مکتوب 93-1-16 صفحہ 20 ) جو آنکھیں مند گئیں رورو کر اور گھل گھل کر جو چراغ بجھے اس مصرع کے بارہ میں آپ کا مشورہ درست ہے اور جو آنکھیں مند گئیں رو رو کر ، زیادہ بہتر ہے لیکن پھر اس سے اگلے مصرع کا پہلا جزو۔۔آں، پرختم ہو اور دوسرا حصہ اس طرح شروع ہو گھل گھل کر جو چراغ بجھئے تو پھر وزن درست رہتا ہے۔اگر چہ یہ سقم ہے۔اس لئے اگر اسے بدلنا ہے تو پھر اس سے اگلے حصہ مصرع کو بھی وزن کی درستی کے لئے بدلنا پڑے گا اور اس میں وہ یا یوں یا اور زائد ڈالنا پڑے گا۔آپ کے مجوزہ متبادل میں پہلا تو مکمل ہے۔لیکن دوسرے میں جوڑنے کیلئے جو لفظ چاہئے وہ غائب ہے مثلاً یوں گھل گھل کر جو چراغ بجھے کر دیا جائے تو پھر ٹھیک ہے۔پڑھنے کے انداز کے فرق سے جو تم سا پیدا ہوتا ہے اس کی مثالیں قادر الکلام شعراء کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں جو مکروہ نہیں سمجھی جاتیں۔اس لئے وزن ٹھیک رکھنے کی خاطر اگر نصف مصرع کا کچھ آخری ٹکڑا دوسرے نصف مصرع کو شروع میں مستعار بھی دینا پڑے ا 378