سیلابِ رحمت — Page 363
سیلار منسوب کرنا جو مہدی کو بادی نہ سمجھے پسندیدہ بات نہیں ہے چنانچہ رسول کریم سال لیا کہ تم نے بھی علماء ھم کہہ کر ان علماء کو ان لوگوں کی طرف منسوب کر دیا جن کا ذکر سیاتی على الناس زمان کی حدیث میں مذکور ہے۔اور ان کیلئے علماء امتى كانبيا بنى اسرائیل نہیں فرمایا۔ہاں جہاں ربانی علماء کا ذکر فرمایا وہاں یہ فرمایا کہ علماء امتى كانبيا بني اسرائیل۔پس اگر چہ محض امت کا لفظ کچھ خلا کا سا احساس پیدا کرتا ہے مگر اسے تیری اُمت کی بجائے کسی اور رنگ میں بدلا جا سکے تو بہتر ہوگا۔مثلاً اس طرح کہ اہل دنیا یا علماء سوء ہمیں جدا جدا نہ سمجھتے۔مگر یہ اظہار اس چھوٹے سے مصرع میں سما نا مشکل ہے۔بہر حال خواب میں جو کیفیات تھیں میں ان کے ساتھ وفاداری کرنا چاہتا ہوں۔ان میں درد کا مضمون تھا، بحث کا نہیں۔آپ نے جو یہ تجویز دی اُمت تری سمجھتی نہیں کیوں یہ ماجرا‘ اس کیوں میں تو بحث کا رنگ ہے جبکہ جدا جدا میں اظہار درد اور بیکسی ہے۔ایک متبادل یہ بھی زیر غور لا یا جاسکتا ہے بلکہ یہی اختیار کر لیں۔اے میرے والے مصطفیٰ اے سید الوری اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا اسی نظم کے ایک اور مصرع پر بھی نظر ثانی ہوئی: اُڑتے ہوئے بڑھوں، تیری جانب سوئے حرم“ اس مصرع میں آپ نے اُڑتا ہوا تجویز کیا ہے۔آپ کی یہ 359