سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 32 of 418

سیلابِ رحمت — Page 32

سیلاب رحمت آفریں بر کلک نقاشے کہ دارد بکر معنی را چنان حسن جمیل ہر رقیمہ معانی کا خزینہ ہے۔جس کی جاذبیت اور دل آویزی مسحور کر دیتی ہے۔آفرین ہے اس مرد خدا پر کہ جس جولاں گاہ میں بھی اس نے قدم رکھا اس کے اوضاع واطوار کو زینت بخشی اور اس کے معیاروں کو بلند کیا اور ایسے نقوشِ قدم چھوڑے جو آنے والوں کے لئے نشانِ منزل قرار پائے۔صد لالہ رخے بود بصد حسن شگفتہ نازاں ہمہ راز یر قدم کرد عجب کرد منصب خلافت کی عظیم الشان اور بے کراں ذمہ داریاں جن کا احاطہ کرنا بھی مشکل تر ہے اور یہ ذمہ داری ایسا بوجھ ہے جو پیٹھ توڑ دینے والی ہے، خدائے مہربان سے اس کے حق ادا کرنے کی توفیق موفق پائی۔اس فریضہ کی ادائیگی میں کسی اور کام کی ہمت ہی کب رہتی ہے مگر آپ اس کے ساتھ ساتھ جس میدان میں بھی اترے کمال کر دکھایا۔آپ شعر و نثر میں طبع آزما ہوئے تو اساتذہ کا رنگ پیدا کیا اور ایسے شاہکار اور شاہ پارے تخلیق کئے کہ جو یادگار ہیں۔یہ پیار اور شفقت کے نامے جو آپ کے نام آئے ، زہے نصیب۔یہ آپ کا اوج قسمت ہے اور قابل صدر شک ہے۔یہ کتو بات ہی اس کتاب کی روح اور معراج ہیں۔ہر خط کو پڑھا، ٹھہر ٹھہر کر بنظر غائر دیکھا۔دل سے بے اختیار یہ صد ابلند ہوتی رہی کہ نکلا ہوں لفظ لفظ سے میں ڈوب ڈوب کر یہ تیرا خط ہے یا کوئی دریا چڑھا ہوا آپ نے اس تصنیف منیف کا نام بھی خوب تر تجویز فرمایا۔اسم بامسٹمی ہے۔اس کے 32