سیلابِ رحمت — Page 320
سیلاب رحمت کہی تھی ابھی فیصلہ نہیں ہوا کہ جلسے پر وہ پڑھی جائے گی یا نہیں بہر حال 66 آپ کو بھیج رہا ہوں۔‘“ اس کے بعد اپنی صحت اور منصور کے رشتہ کے لئے دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا: ” مجھے یاد ہے آپ کو خط لکھوں گا۔“ فون اُٹھایا تو یہ تم تھے یہ کوئی خواب نہ تھا آج بھی یاد وہ انمول گھڑی رہتی ہے حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ہمارے گھرانے پر احسانات عالمین کے رب کی نعماء سے ہر کس و ناکس فیض یاب ہوتا ہے۔اسی طرح اُس کے نمائندے خلیفہ وقت کی شفقتیں بھی عام ہوتی ہیں۔ہمارے گھرانے کے ہر فرد تک آپ کی دعاؤں کی برکتوں کا فیض پہنچا۔ناصر صاحب سرکاری افسر رہے ہیں۔ہمارے ملک میں سرکاری افسر کو بالعموم جن مسائل کا سامنا رہتا ہے وہ احمدی ہونے کی وجہ سے دو چند ہو جاتے ہیں۔مثلاً ترقی میں رکاوٹ بار بار تبدیلیاں اور مخالفت کوئی نہ کوئی مسئلہ لگارہتا ہے۔ہر مشکل میں نظریں مشکل کشا کی طرف اُٹھتیں۔جس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں خلافت کی ڈھال عطا کی ہے اور ہم دعاؤں کی درخواستیں کر کے تسلی پاتے ہیں۔حضور انور کو خط لکھ کر ہی یقین ہو جاتا کہ دعائیں قبول ہو گئیں۔ایسے ہی کسی مسئلے پر دعا کا خط لکھا تو ناصر صاحب کے نام جواب آیا: ” میرا پیارا مولا کریم اپنے خاص فضل و کرم سے آپ کی تمام مشکلات اور پریشانیوں کو دُور فرمائے اور جہاں آپ کا رہنا آپ کے 318