سیلابِ رحمت — Page 285
سیلاب رحمت بہنوئی کو کتب لندن لے جانے پر آمادہ کر لیا۔تیسرے دن کتب لندن بھیجی جا چکی تھیں۔یہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے پیارے کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پر غیبی مددکا سامان۔پیارے حضور کا مکتوب محررہ (93-2-9) موصول ہوا: آپ کے خط کے ساتھ میرے کئی دل پسند شعراء کے انتخاب یا دیوان ملے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔سب میری پسند کے مطابق ہیں، یہ کتابیں دفتر میں سجادی ہیں۔اب ان سے طاق نسیاں کے بجھے بجھے نقوش اُجاگر کروں گا ، اللہ آپ کو دین و دنیا کی حسنات سے نوازے۔۔۔آپ نے جس خلوص اور برق کی سی تیزی سے بھجوائی ہیں میرے لئے وہی تحفہ بہت ہے۔اللہ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔“ حضور کی خوشنودی سے دل حمد وشکر سے بھر گیا۔ترے در کی گدائی سے بڑا ہے کون سا درجہ مجھے تو بادشاہت بھی ملے تو میں نہ لوں ساقی علیم صاحب کے مجموعہ کلام کا دیباچہ ہر کام جو حضور انور نے ارشاد فرمایا اپنی استطاعت سے بڑا لگا۔الحمد للہ کہ مولا کریم نے کروا بھی دیا۔مگر درج ذیل مکتوب (99-12-8) میں جس کام کیلئے ارشاد تھا بہت ہی مشکل تھا۔تحریر تھا: ایک اہم کام جو شاید آپ کے سوا کوئی دوسرا نہ کر سکے آپ کے سپر د کر رہا ہوں۔کام یہ ہے کہ ہم عبید اللہ علیم کے کلام پر مشتمل کتاب ข 283