سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 274 of 418

سیلابِ رحمت — Page 274

سیلاب رحمت تحریر چونکا دیتے ہیں اور یادوں میں ایسا تموج پیدا کر دیتے ہیں کہ اسے دھیما ہوتے ہوئے اور قرار پکڑتے ہوئے کچھ وقت لگتا ہے۔پاکستان کے پیارے احمدی سب یاد آنے لگتے ہیں۔چند لمحوں کیلئے یادیں کارفرما اور کام معطل ہو جاتے ہیں۔یہ بھی ایک غنیمت ہے کبھی کبھی چپو چھوڑ کر موجوں کے ساتھ بہتے چلے جانے میں بھی ایک مزا ہوتا ہے۔کچھ عرصہ خیالوں میں غرق ہو کر پھر سلامت اُبھر آنے سے جسم و جان کو ایک نئی توانائی ملتی ہے۔جو یا دیں ڈبوتی ہیں۔کئی کلفتیں دھو بھی ڈالتی ہیں۔اللہ تعالیٰ لجنہ کراچی کو ہمیشہ دین کی بے لوث اور ثمر دار خدمت کی توفیق عطا فرماتا رہے۔آپ کی قیادت میں جس طرح سب بہنیں خلوص کے ساتھ مل جل کر ایک جان اور ایک قلب میں ڈھل کر تعاون علی البر کا دلکش مظاہرہ کر رہی ہیں۔خدا کرے یہ ہمیشہ اسی طرح رہے۔اللہ تعالیٰ چشم حسود سے آپ کی حفاظت فرمائے۔اپنی رضا کی دائی جنت آپ کو عطا فرمائے۔اور دونوں جہان کی حسنات سے آپ سب کے دامن بھر دے۔آمین۔سب بہنوں اور عزیزوں کو سلام۔خدا حافظ۔“ اس نادر مکتوب کا شکریہ میں نے دل سے اُٹھنے والے احسان مندی کے جذبات کو ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ڈھال کر ادا کیا۔چپو چھوڑ کر لہروں کے سہارے والی منظر کشی مجھے بہت پسند آئی تھی۔حضور کی خوشنودی حاصل ہونے کی سعادت نے سرشار کر دیا تھا۔جیسا کہ میں نے ہے۔آپ کے احسان کا ہر قدم پہلے سے آگے ہوتا۔اس خط کے جواب میں حضور کا لے لکھا۔272