سیلابِ رحمت — Page 254
رحمت ہے جو ضروری نہیں کہ جو کچھ آپ کہنا چاہتی ہیں اس کے مطابق ہو یا اس سے بہتر ہو۔مثلاً چوتھے شعر کا حلیہ میں نے یہ بنا دیا ہے۔ہر تازہ واردات کی برداشت پر حرف ہے احتمال جور و جفا پر بھی اعتراض آپ نے اس شعر میں جو مضمون باندھا ہے وہ بہت اچھا ہے میرا خیال ہے کہ مندرجہ بالا ترمیم میں بھی بعینہ وہی بات ہے جو آپ کہنا چاہتی ہیں۔اس سے اگلے شعر میں گر ہو سکے تو جڑ دو میں لگتا ہے جڑ دو بہت جلدی میں جڑ دیا گیا ہے اور ذرا جلدی میں پڑھنا پڑتا ہے حالانکہ یہ دو لفظ سارے مصرع کی جان ہیں مجھے لگتا ہے کہ اگر انہیں بیچ سے اُٹھا کر شروع میں رکھ دیں تو ادائیگی میں ہلکے مگر وزن میں زیادہ ہو جائیں گے اس صورت میں مصرع یوں بن جائے گا: جڑ دوگر ہو سکے تو خدا پر بھی اعتراض اس سے اگلا شعر ہے جھلا گئے عدو ، بھی مزید توجہ کے لائق ہے۔پیہم ثبات کی ترکیب غالباً نئی ہے اس لئے ذرا اجنبی دکھائی دیتی ہے غالباً صبر و ثبات میں بدلنے سے پہیم کا مضمون تو قائم رہے گا اجنبیت نہیں رہے گی بہتر ہے اس کو یوں کر دیں ؎ جھلا کے میرے صبر پر کرنے لگے عدو خود اب تو اپنی طرز جفا پر بھی اعتراض آٹھویں شعر میں آپ جماعت کی وسعت پزیری پر اُن کے 252