سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 237 of 418

سیلابِ رحمت — Page 237

یہ شعر خصوصاً اس لئے عین دل کے نشانے پر لگا کہ ایک ہی دن پہلے یہ مضمون سوچ رہا تھا کہ اللہ کی لا انتہا رحمت کی کیا شان ہے کہ ہماری آنکھوں کی کمی پر ہی رحمتوں کی بارش برسا دیتا ہے۔آپ نے لجنہ کے مجلہ کے لیے نظم کا مطالبہ کیا تھا ایک دو روز میں انشاء اللہ بھیج دوں گا۔“ ( مكتوب 1989-2-23) دل چاہتا ہے پیارے حضور کے دعائیہ الفاظ الگ لکھ کر مرتب کروں عجیب اثر انگیز ، رحم کو جذب کرنے والے الفاظ ہیں : ” ظاہر و باطن کو پاکیزہ اور خوشنما بنائے۔حسن فطرت اور حسنِ معرفت کو 66 چار چاند لگائے۔اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہو۔آمین الہم آمین " ایک دفعہ خدمت اقدس میں بھجوائی ہوئی دو نظموں پر ایک ہی مکتوب میں دلنواز تبصرہ موصول ہوا۔دستِ مبارک کی یہ تحریر خاکسار کے لئے نعمت غیر مترقبہ ہے: 235