سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 222 of 418

سیلابِ رحمت — Page 222

سیلاب رحمت رنگینی بزم کے لئے شریر نظمیں یا طرحی مشاعروں کے لئے گھڑی ہوئی غزلیں کہتے ہوئے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میری یہ بیساختہ فطری صلاحیت کسی گنتی شمار میں آسکتی ہے۔پھر یہ ہوا کہ 1974 ء اور بعد کے دُکھ بھرے حالات سے قلب و روح پر لگتی ہوئی چوٹوں کا درد سکتے ہوئے حرفوں کا لباس پہن لیتا۔1982ء تک چند نظمیں ہوئیں جن کا رخ ایک ہی تھا۔مثلاً : مالک لولاک تیرے نام لیوا ہم بھی ہیں اک نگاہِ لطف و رحمت دل گرفتہ ہم بھی ہیں فیصلہ یہ کون کہتا ہے شکست فاش ہے انتم الاعلون کا وعدہ ہمارے ساتھ ہے کف قاتل کے سلیقہ کو سراہا جائے جان دی جائے نہ چیخا نہ کرایا جائے کچھ نظمیں ہفت روزہ لا ہور اور مصباح میں چھپیں تا ہم ایک ٹھہری ہوئی کیفیت تھی لاہور اور میں تا آنکہ 1983 ء کے اوائل میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کراچی تشریف لائے۔گیسٹ ہاؤس کے سبزہ زار پر محافل سوال و جواب ہو ئیں۔خاکسار کو خواتین میں مجالس عرفان میں حضور انور کے بہت قریب جگہ ملی۔زندگی کا پہلا موقع تھا خلیفہ وقت اس قدر قریب، روح اتھل پتھل ہوگئی۔پھر آپ کے تجر علمی اور مشفقانہ محبتوں کے بحر مواج میں سب کچھ ڈوب گیا۔میں ایک ڈائری میں آپ کے ارشادات لکھ رہی تھی بچوں کی سی خواہش مچلی کہ اس ڈائری پر آپ کے دستخط لے لوں اتنے میں آپ نے کسی کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سارے خط آپ خود دیکھتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔گھر آ کر حضور کو خط لکھا۔نہ جانے کیا کیا 220