سیلابِ رحمت — Page 21
سیلاب رحمت دوسرے عشاق جواب دنیا میں نہیں رہے، زندگی کی آخری سانس تک صبر و رضا سے اس آس میں رہے کہ کاش خدا قادیان لے جائے۔یہ بستی سدا سہاگن رہے۔اس میں وہ ہستی پیدا ہوئی جونوروں کا ایک سمندر تھی۔جس سے نوروں کے سوتے پھوٹے۔ایک اللہ کا نام باقی رہے گا۔اسے جس بھی نام سے پکار لو۔وا ہے گرو، ایشور، اللہ اکبر ( ص 292-293) لیکن اپنے دردوغم کی گٹھڑی اٹھائے نگر نگر پھرنے والے اس مسافر کو ہجر وفراق کے سلوک کی ابھی کچھ اور منزلیں طے کرنا باقی تھیں: ہر روز نئے فکر ہیں، ہر شب ہیں نئے غم یا رب یہ مرا دل ہے کہ مہمان سرا ہے اب اسے اس بستی سے جدائی کا غم تھا جہاں اس نے اپنی مقدس اور پاکیزہ جوانی کا بھر پور زمانہ گزارا۔جہاں شادی ہوئی ، اولاد کی نعمت سے مالا مال ہوئے اور جہاں ردائے خلافت زیب تن کی۔لیکن پھر اچانک یہ درودیوار، پاکیزہ اور روح پرور ماحول بہشتی مقبرہ اور مقدس مزاروں کی بستی بھی خدا کی خاطر چھوڑنی پڑی۔اس بھرے گھر سے ایسے گئے کہ پھر مڑ کر نہ دیکھا۔دروازوں پر تالے پڑے رہے کہ کھولنے والا واپس نہ آیا۔اس پر بہار باغ سے جدا ہو کر نہ مالی کو چین آیا اور نہ باغ کو قرار آیا۔طائر اڑ گیا نشیمن اُداس رہ گیا۔اس نشیمن سے اُداسی کے پیغام جاتے تو آپ بے چین ہو جاتے : بس نامه بر، اب اتنا تو جی نہ دُکھا کہ آج پہلے ہی دل کی ایک اک دھڑکن اُداس ہے 21