سیلابِ رحمت — Page 207
سیلاب رحمت اٹھائیں۔دل و دماغ ایک آواز پر مرتکز تھا۔یہ کلاس میں گھر پر بھی پابندی سے دیکھتی تھی مگر کہیں نہ کہیں توجہ ہٹ جاتی۔فون کی گھنٹی بجتی یا دروازے کی کوئی بچہ مخل ہوجاتا، کہیں جانا پڑ جاتا یا کوئی آجاتا اور حد تو یہ کہ کبھی بجلی چلی جاتی۔ایسی یکسوئی میسر کہاں تھی۔اس لئے بہت لطف آیا اور بہت کچھ سیکھا۔/ اپریل کی شام اردو کلاس کے لئے ذرا جلدی آگئی تا کہ نماز بھی مل جائے۔نصرت ہال کا منظر دیدنی تھا۔وہ سارے پیارے پیارے بچے گھوم رہے تھے جو اردو کلاس کی رونق تھے۔جس کمرے میں اُردو کلاس ریکارڈ ہو رہی تھی اتنا چھوٹا تھا کہ اگر کوئی اور بتا تا تو یقین نہ آتا۔سب چھوٹے بڑے بچے اپنی جگہ بیٹھے تھے۔حضور انور کی تشریف آوری سے تصویر مکمل ہوگئی۔حضور نے ایک جدت کی تھی بالکل فطری انداز میں زبان سکھا رہے تھے۔جیسے ماں بچے کو سکھاتی ہے۔گھر میں گفتگو کے انداز میں خود بخود بچے سیکھ جاتے ہیں۔حضور نے ماحول بھی ایسا ہی بنایا ہوا تھا۔ایک ماں کے گرد بیچے جمع ہیں کبھی کچن لگتا ہے کبھی کھانے کا کمرہ اور بے تکلف گفتگو ہورہی ہے۔کہانیاں، نظمیں ، محاورے، معلومات عامہ، بیٹھنے اٹھنے کھانے پینے کے آداب، اسلامی عقائد کہیں سادہ انداز میں معرفت کے نکتے سبق آموز باتیں، ہلکے پھلکے لطیفے ہر نعمت اس دستر خوان پر موجود تھی۔حضور نے تشریف لاتے ہی اجرام فلکی ان کی رفتار اور فاصلوں کی بات چھیڑ دی۔خاصا سائنسی موضوع تھا مگر انداز دلچسپ، چھٹتے ہی مجھ سے سورج اور زمین کا فاصلہ پوچھ لیا۔ظاہر ہے میرے علم میں نہیں تھا۔آخر میں آئس کریم کا دور شروع ہوا۔پیارے حضور ایک ایک کپ کھولتے چیچ سے ذرا سا چکھتے ، تبرک کر کے کسی خوش قسمت کو پکڑا دیتے۔میں بالکل سامنے اس شعر کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔205