سیلابِ رحمت — Page 203
فرمایا: ب رحمت ہمارے آس پاس۔اپنے خطوں کی شکل میں اپنی نظموں کی صورت میں ، آپ تو ہمارے نزدیک ہی رہتی ہیں۔“ خاکسار نے در ثمین کی ڈمی پیش کی۔پیارے آقا نے ہاتھ بڑھا کر ڈمی وصول کی اور ”اچھالے آئی ہیں ، بہت ضرورت تھی ، ایک غلطیوں سے پاک، 66 جہاں تک انسانی کوشش ہوسکتی ہے درثمین کی۔“ عرض کیا: ”حضور آپ دیکھیں گے تو بہت مزا آئے گا۔“ ضرور آئے گا مجھے علم ہے آپ نے کتنی محنت کی ہے۔“ اس کے ساتھ ہی ڈمی اپنی بائیں جانب بک شیلف میں رکھ لی۔میرے پاس کراچی لجنہ کی بچوں کے لئے کتب تھیں، وہ پیش کر دیں۔آپ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا۔فرمایا: فرمایا: 'یہ تو میرے بہت کام آئیں گی۔بچوں کو پڑھاتا ہوں نا، لجنہ 66 کراچی بہت کام کر رہی ہے اور آپ تو روح رواں ہیں ماشاء اللہ۔“ اس ضمن میں بہت سے حوصلہ افزائی کے جملے ارشاد فرمائے) کتب کے بارے میں چند ارشادات کے بعد آپ نے پرائیویٹ سیکریٹری صاحب کو بلا کر فرمایا: 66 یہ کچھ عرصہ یہیں ہیں ان کو کوئی علمی کام دیں خاص طور پر اردو کا۔“ پھر تصویر ہوئی۔وہ خواب جو بیداری میں دیکھا تھا، حسیں تھا اک عالم خود رفتگی تھا، ہوش نہیں تھا 201