سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 186 of 418

سیلابِ رحمت — Page 186

اشاعت کے کاموں میں محنت کشوں کو معاوضہ دینے میں دل کھلا رکھتیں بلکہ زائد حسن سلوک بھی کرتیں۔سیر چشم اور مخیر تھیں۔پرنٹنگ کا خرچ کم نہیں ہوتا تھا مگر آپ ہمیشہ تسلی دیتیں کہ کام اچھا کر وخرچ کی فکر نہ کرو، اللہ تعالیٰ کبھی کمی نہیں رکھتا۔اچھے کاغذ پر رنگین سرورق اور جلدوں کے ساتھ معیاری کتب شائع ہوئیں۔جن کے معیار کو سراہا گیا۔ملکوں سے آرڈر آنے لگے۔اس کام میں کئی کٹھن مراحل آئے جس میں آپ نے بڑی دانشمندی اور بہادری سے حق بات کی۔اشاعت کے سلسلے میں پبلشرز کے ساتھ میٹنگ میں ساتھ رہتیں۔صائب الرائے تھیں۔ہمیں آپا کے فیصلوں پر اعتماد رہتا۔ٹیم ورک کی اہمیت سمجھتی تھیں۔ایسا خوبصورت ماحول بنایا ہوا تھا کہ کام میں لطف آتا تھا۔دو پہر کو لجنہ ہال میں سادہ سا کھانا مل جل کر کھانا بہت اچھا لگتا۔بشاشت اور مسکراہٹ ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ملک میں اور ملک سے باہر جہاں بھی جاتیں کتابوں کا تعارف ضرور کراتیں اور خرید کر محفوظ رکھنے کی تحریک کرتیں۔ان کا جملہ یہ خزانہ ہے خزانہ یا د رہتا ہے۔خود بھی خرید خرید کر تحفے دیتیں۔تعلیمی مقابلوں میں انعامات میں کتابیں ہی دیتیں۔احمد یہ ہال میں کتا بیں رکھنا مشکل ہو گیا تو اپنے گھر میں کمرہ دے دیا۔میری ادنی ادنی خدمات کو بہت سراہتیں۔ایک نصیحت اکثر کرتیں: وو دنیا وچ بڑیاں باریاں نے تے بڑیاں ایم اے نے۔۔جے اللہ نے کم دی توفیق دتی اے تے سر نیواں رکھیں۔“ 184