سیلابِ رحمت — Page 183
رحمت بلند ہو۔وہ جواں ہمت اور حوصلہ مند ہوں۔وہ مصائب و مشکلات کی پرواہ کرنے والی نہ ہوں۔وہ دین کے لئے ہر قسم کی قربانی پر تیار رہنے والی ہوں۔وہ جرأت اور بہادری کی پیکر ہوں اور وہ اپنے اخلاص اور اپنے جوش اور اپنی محبت میں مردوں سے پیچھے نہ ہوں۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحه ۵۴) 2 - ”بے شک محمد رسول اللہ لا یتیم کے ہاں کوئی نرینہ اولاد نہیں رہی جس سے آپ کی جسمانی نسل چلتی مگر جہاں تک روحانی اولاد کا سوال ہے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اولا دمحمد رسول اللہ صلی ا یہ تم کولی اور اتنی کثرت سے ملی کہ اس کی نظیر دنیا کے کسی نبی میں بھی نظر نہیں آتی۔اسی چیز کا ذکر آیت خاتم النبیین میں کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ گومحمد رسول اللہ صلی للی سیم کی کوئی نرینہ اولاد نہیں جس کے آپ باپ کہلا سکیں مگر خدا تعالی آپ کی روحانی اولا د کو قیامت تک جاری رکھے گا جو ہمیشہ آپ کے نام کو جاری رکھے گی۔۔۔اگر کسی کو روحانی اولا دمل جائے اور وہ اس کے نام اور کام کو دنیا میں پھیلائے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی کہلائے گی۔۔۔گویا اس سورۃ میں اس بات کی پیش گوئی کی گئی تھی کہ آئندہ محمد رسول اللہ صلی یا یہ تم کو روحانی اولا د دی جائے گی۔چنانچہ اس وقت جو تم یہاں بیٹھی ہو تم بھی محمد رسول اللہ صلی ایم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہو اور تم انا اعطينك الكوثر كا نظارہ دیکھ رہی ہو۔۔کوثر سے مراد ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں کہ وہ صاحب خیر کثیر ہیں اور ایک کوثر سے مراد تم ہو ، جنہیں خدا تعالی نے بڑی 181