سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 15 of 418

سیلابِ رحمت — Page 15

سیلاب رحمت عورت ہونا ایک اعزاز بن گیا۔ایک عارفہ عورت کے اس جو ہر آبدار پر جوہری کی جو ہر شناسی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع ان کو ایک ایسی ہی نظم پر تحریر فرماتے ہیں: " آپ کا کلام بالعموم کسی نہ کسی پہلو سے جاذبیت رکھتا ہے لیکن بعض نظمیں بعض دوسری نظموں پر فوقیت لے جاتی ہیں۔ان میں سے ایک وہ ہے جو 18 جون 1990 ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔مطلع میں اگر چہ ایک ایسی سچائی بیان ہوئی ہے جو ہر صاحب نظر کو معلوم ہی ہوگی لیکن جس رنگ میں آپ نے ڈرامائی انداز میں اس مضمون کو پیش کیا ہے وہ غیر معمولی اثر کرنے والا ہے۔غلط ہے آسماں سوکھا پڑا ہے زمیں کی کوکھ بنجر ہو گئی ہے اسی طرح دوسرا اور تیسرا شعر بھی خاص ادا کے مالک ہیں۔پہلی غزل کی طرح اس غزل میں بھی آپ نے ایک ایسا شعر ایسے خاص انداز میں کہا ہے جو کوئی مرد شاعر نہیں کہہ سکتا خواہ کیسا ہی قادر الکلام کیوں نہ ہو۔یہ ایک ایسی خاتون کا کلام ہے جو گھر کے روز مرہ کاموں میں بھی عارفانہ نکتے سوچتی رہتی ہو۔وہ شعر یہ ہے۔نہیں ہے ان تلوں میں تیل باقی مجھے پہچان چھو کر ہو گئی ہے یہ چھو کر پہچان ایک ایسا خیال ہے جو ایک مرد شاعر کی رسائی سے باہر معلوم ہوتا ہے۔“ 15