سیلابِ رحمت — Page 111
سیلاب رحمت) دقواریر۔قوامون کے نام سے اصلاح معاشرہ کمیٹی کی طرف سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی ۲۸ دسمبر ۱۹۳۰ کی تقریر سے کچھ حصہ شائع کیا گیا۔اچھی کہانیاں ہماری فرمائش پر مکرمہ بشریٰ قریشی صاحبہ نے لکھی۔مقبول ہوئی ،کئی ایڈیشن آئے۔دلچسپ سبق آموز واقعات۔ہماری باون ویں پیش کش ہے جو مکرم عبدالباسط صاحب شاہد نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی کتب سے مشہور زمانہ دلچسپ واقعات جمع کر کے مرتب کی ہے۔واقعات پڑھتے ہوئے آپ کا مخصوص لہجہ ذہن میں آنے لگتا ہے جو بہت لطف دیتا ہے۔نبوت سے ہجرت تک مکرمہ بشری داؤد صاحبہ کے بچوں کے لئے سلسلہ وار لکھے ہوئے مضمون کو قدرے درست اور مکمل کر کے 1997ء میں شائع کیا گیا۔یچے احمدی کی ماں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا خطبہ جمعہ ہے۔دکتاب تعلیم کا خیال حضرت اقدس مسیح موعود کی ایک خواہش پڑھ کر آیا۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 260 پر تحریر ہے: میں چاہتا ہوں کہ ایک کتاب تعلیم کی لکھوں۔۔۔اس کتاب کے تین حصے ہوں گے۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہمارے کیا فرائض ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنے نفس کے کیا حقوق ہم پر ہیں اور تیسرے یہ کہ بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں۔“ اپنی رفیق کار برکت ناصر صاحبہ کو اس پر کام کرنے کی درخواست کے جواب میں حسبِ معمول ان کا مخصوص جملہ تُسیں حکم کرد‘ سن کر خوشی ہوئی۔بڑی محنت سے 111