سفر آخرت — Page 81
آسمانی کہاں تک حرص و شوق مال فانی؟ اُٹھو ڈھونڈو متاع کہاں تک جوش آمال و امانی یہ تو سو چھید ہیں تم میں نہانی تو پھر کیوں کر ملے وہ یار جانی کہاں غیر بال میں رہتا ہے پانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی ملک و مال جھوٹی ہے کہانی بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی ذرا سوچو یہی زندگانی ؟ ہے خدا نے اپنی رہ مجھ کو بتا دی فسجان الذي اخرى الا عادی درتین