سفر آخرت

by Other Authors

Page 72 of 84

سفر آخرت — Page 72

72 ۸۹۔سماع موتی کے بارے میں جماعت احمدیہ کا مسلک ہمارے نزدیک فوت شدہ اس دنیا کے رہنے والوں کی باتیں براہ راست نہیں سن سکتے البتہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہاں کے رہنے والوں کی باتیں ان تک پہنچا سکتا ہے اور بعض اوقات مصلحت کی بنا پر پہنچانا بھی ہے۔اسی طرح مرنے والے اللہ تعالٰی کی اجازت اور توفیق کے مطابق دنیا والوں کے لئے دعائیں بھی کرتے ہیں لیکن چونکہ ان سب امور کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی مرضی اور ارادہ کے ساتھ ہے اس لئے اس کے متعلق وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جس کی اجازت شریعت نے بالوضاحت دی ہے مثلاً ان کے حق میں دعا کرنا انہیں ثواب پہنچانے کے لئے رسم و رواج سے بچ کر صدقہ و خیرات کرنا اظہار تعلق کا بہترین ذریعہ ہے اس صورت میں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو مرنے والوں کو بھی اس کی اطلاع کر دے گا اور وہ بھی اللہ تعالٰی کی دی ہوئی توفیق سے اپنے پسماندگان کے لئے دعا کریں گے براہ راست مُردوں کو مخاطب کرنا کہ وہ اس کیلئے دعا کریں یا اس کا یہ کام کر دیں ایک رنگ کا شرک ہے جسے ( فقه احمد یه صفحه ۲۶۰) اسلام پسند نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ مردوں کو آوازیں سنا سکتا ہے کے متعلق حضرت مصلح موعود نے فرمایا بیشک انسان مُردوں کو آواز نہیں سنا سکتا اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ہے یعنی ان کو آواز اللہ تعالیٰ سناتا ہے بندہ نہیں سنا سکتا چنانچہ قبر پر جب دعا مانگی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ مردوں کی روح کو بتا دیتا ہے کہ تمہارے لئے آج فلاں شخص نے دعا کی ہے پس بے شک وہ خود اپنی آواز اس کو نہیں سناسکتا مگر اللہ تعالیٰ الفضل ۳۰ رمئی ۱۹۴۴ء) سنادیتا ہے۔۹۰۔زندوں کو بھی مرنے والے کے حالات بتائے جاتے ہیں عرض کیا گیا اگر مرنے والے کو اس کے لواحقین کے حالات بتائے جاتے