سفر آخرت — Page 71
71 وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے پھر قبر کا لفظ وسیع ہے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی حالت بعد الموت میں جہاں خدا اسے رکھتا ہے وہی قبر ہے خواہ دریا میں غرق ہو جاوے خواہ جل جاوے، خواہ زمین پڑار ہے دنیا سے انتقال کے بعد انسان قبر میں ہے اور اس سے مطالبات اور مواخذات جو ہوتے ہیں اس کی تفصیل کو اللہ تعالی بہتر جانتا ہے انسان کو چاہئے کہ اُس دنیا کے لئے تیاری کرے نہ کہ اس کی کیفیت معلوم کرنے کے پیچھے پڑے۔۸۷۔مُردوں کو سلام کرنا اُن کا سننا حضرت مسیح موعود نے فرمایا:- ( فقه احمد یه صفحه ۲۶۰) السلام علیکم یا اہل القبور کہنے پر وہ سلام کا جواب وعلیکم السلام تو نہیں دیتے خداوہ سلام جو ایک دعا ہے پہنچا دیتا ہے اب ہم جو آواز سنتے ہیں اس میں ہوا ایک واسطہ ہے لیکن یہ واسطہ مُردے اور ہمارے درمیان نہیں لیکن السلام علیکم میں خدا تعالیٰ ملائکہ کو واسطہ بنا دیتا ہے۔اسی طرح درود شریف ہے کہ ملائکہ آنحضرت ﷺ کو پہنچا دیتے ہیں۔مُردہ کی آواز بدر ۱۶ ار مارچ ۱۹۰۴ء ( فقه احمد یه صفحه ۲۶۱) خدا تعالیٰ کی آواز تو آتی ہے مگر مُردوں کی نہیں آتی اگر کبھی کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خدا تعالیٰ کی معرفت یعنی خدا تعالی کوئی خبر ان کے متعلق دے دیتا ہے اصل یہ ہے کہ کوئی خواہ نبی ہو یا صدیق یہ حال ہے " آن را که خبر شد خبرش بازینامد اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں اس لئے فرماتا ہے "فَلَا أَنْسَابِ بَيْنَهُمْ " (فتاوی احمد یه صفحه ۱۱۴)