سفر آخرت — Page 68
68 طواف کئے جاتے ہیں ان پر غلاف چڑھائے جاتے ہیں قبروں کو بوسہ دیا جاتا ہے طوائفیں بلو ا کر گیت سنے جاتے ہیں اس بارے میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا :- شریعت تو اس بات کا نام ہے کہ جو کچھ آنحضرت نے دیا ہے اُسے لے لے اور جس بات سے منع کیا ہے اُس سے ہے۔لوگ اس وقت قبروں کا طواف کرتے ہیں ان کو مسجد بنایا ہوا ہے عرس وغیرہ ایسے جلسے نہ منہاج نبوت ہے نہ طریق ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۱۶۵) سنت۔۸۱ بارہ وفات حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایسے عرس میں خواہ بنی کریم ا ک ہی ہو بدعت نظر آتی ہے حضرت مسیح موعود نے کبھی بارہ وفات کا جلسہ اپنے گھر میں ہر گز نہیں کیا غرض میں اپنی زندگی میں چند دنوں کے لئے بدعت کو گوارا نہیں کر سکتا اور ایسے امور میں بدعت کے خطرناک زہروں سے بچنے کا لحاظ رکھو۔(۲۱/۲۸ فروری ۱۹۱۳ء) ۸۴۔قبروں پر پھول چڑھانا بعض لوگ قبروں پر پھول رکھنے یا پھولوں کی چادر چڑھاتے ہیں اس بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے فرمایا :- اس سے میت کی روح کو کوئی خوشی نہیں ہو سکتی اور یہ نا جائز ہے اس کا کوئی اثر قرآن و حدیث سے ثابت نہیں اس کے بدعت اور لغو ہونے میں کوئی شک نہیں۔۸۳۔قبروں پر چراغ جلانا (بدر ۱۲ اگست ۱۹۰۹ء) ایک رسم جہالت کی یہ بھی ہے کہ بعض لوگ بزرگوں کے مزار پر رات کو چراغ جلاتے ہیں یہ ہندوانہ اور مشرکانہ بدعت ہے آنحضرت ﷺ نے اس منع فرمایا