سفر آخرت — Page 62
62 حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے فرمایا:- اگر قبر کی حفاظت کے لئے ضروری نہ ہو تو قحبہ وغیرہ کی ضرورت نہیں اور اگر یادگار کے خیال سے قبہ بنایا جائے تو میں ایسی یادگار کا قائل نہیں کہ اس کے لئے قحبہ بنانا ضروری ہو۔یہی خیال ہے جس سے آگے شرک پیدا ہوتا ہے پس حفاظت تو ٹھیک ہے لیکن یادگار ٹھیک نہیں کیونکہ قبر کی اس رنگ میں یادگار ہی وہ چیز ہے جو آگے شرک تک پہنچا دیتی ہے بے شک ہم تو احترام کے لئے مجھے بنا ئیں گے لیکن دوسرے لوگ اس احترام کو اس حد تک پہنچا دیں گے کہ جس سے شرک شروع ہو جائے گا۔رسول کریم کے کے مزار پر قبہ بنایا گیا ہے وہ بھی حفاظت کے لئے نہ کہ اس لئے کہ مزار کی عزت کی جائے۔الفضل یکم مارچ ۱۹۲۷ء - فقه احمد یه ۲۶۵-۲۶۶) ۷۳۔زیارت قبور میں ثواب زیارت قبور کے متعلق حضرت مسیح موعود نے فرمایا قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لئے ایک سنت ہے یہ ثواب کا کام ہے اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آ جاتا ہے انسان اس دنیا میں مسافر آیا ہے آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے۔چاہئے کہ انسان اپنے لئے بھی خدا سے دعا کرے اور اہل قبر کے واسطے بھی خدا سے دعا کرے انسان زندہ ہو یا مردہ ہر حال میں دعا کا محتاج ہے درود شریف جو رسول کریم اللہ پر پڑھا جاتا ہے یہ بھی ایک قسم کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی برکات نازل کرے اور اپنی رحمتیں بھیجے۔قبور کے دیکھنے سے انسان کا دل نرم پڑ جاتا ہے اور اپنا انجام یاد آ جاتا ہے۔(ذکر حبیب مصنف حضرت مفتی محمد صادق صفحه ۲۴۶) ۷۴۔قبروں سے فیض قرآن پاک سے ثابت نہیں حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب سے یہ ثابت نہیں کہ