سفر آخرت — Page 61
61 جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں تکلفات جائز نہیں ہیں۔اے۔کیا پختہ قبر بنانا جائز ہے؟ الحکم جلد نمبر ۲۰ صفحه ۹ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ء ملفوظات جلد سوم میت کے مسائل) ایک بار پھر حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا نیت پر منحصر ہے مثلاً بعض جگہ سیلاب آتے ہیں قبریں بہہ جاتی ہیں بعض جگہ بجو اور گئے قبروں سے مردے نکال لیتے ہیں اگر ایسے وجوہ پیش آجائیں تو پختہ کر دینا مناسب ہے کیونکہ میت کے لئے بھی ایک عزت ہے نمود کے واسطے گنبد بنانا جائز نہیں مگر حفاظت ضروری ہے حضرت رسول ریم اللہ کی قبر کے گرد پختہ عمارت ہے ایسے ہی بعض اولیاء اور صلحاء کی قبریں پختہ ہیں الہی مصلحت نے ان کے لئے یہی چاہا اور ایسے اسباب مہیا کئے۔پرانی نوٹ بک ۱۹۰۱ء صفحه ۲۴۱ ذکر حبیب مصنف حضرت مفتی محمد صادق) ۷۲۔قبہ یا روضہ بنانا انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے کہ جن وجودوں کے ساتھ محبت ہوتی ہے ان کے مرنے کے بعد بھی جہاں تک ہو سکے ان کا احترام کرنا چاہتا ہے یوں تو جب کوئی شخص مر جاتا ہے اس کی لاش اگر کتے بھی کھا جائیں تو اُسے کیا تکلیف ہو گی لیکن اس سے محبت رکھنے والے زندہ انسان ہوں ان کی فطرت گوارا نہیں کرتی کہ لاش کی یہ حالت ہو اس لئے وہ اپنے طور پر اس کا احترام کرتے ہیں مگر یہ کوئی شرعی احترام نہیں ہوتا کیونکہ شریعی طور پر ایسا احترام جائز نہیں کیونکہ اس سے شرک پھیلتا ہے بچوں وغیرہ کی قبر پر قبہ نہیں بناتے مگر بزرگوں کی قبر پر قبہ بناتے ہیں کیونکہ ان کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ ان سے کچھ حاصل ہو گا۔الفضل یکم مارچ ۱۹۲۷ء - فقه احمد یه صفحه ۲۶۶)