سفر آخرت

by Other Authors

Page 54 of 84

سفر آخرت — Page 54

54 کھلایا جاتا ہے اس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے روٹین کے مطابق چھوٹی پیاری بیٹی کو بغیر مہندی کے ڈولی میں ڈال کر بارات والوں کے حوالے کیا جاتا ہے اس درد ناک حقیقی فلم کا نقشہ دیکھنے والے ہی کھینچ سکتے ہیں کتنا بڑا امتحان تھا ایک رفیق ابن رفیق کا اور کس طرح یہ رفیق حضرت بانی سلسلہ اللہ رضاؤں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور پھر تحسین صد تحسین گھر والے ایک ایک فرد پر بچی کی غم زدہ والدہ پر بہنوں پر اور بہنوں کے ویروں پر ملک صاحب کی ساری اولاد پر جس نے اپنے والد کے حکم پر سر تسلیم خم کر دئے اور چوں نہ کی بلکہ مددگار ثابت ہوئی اور پھر قربان اس بچی پر جو سارے کپڑوں میں غموں کے پہاڑ اپنے ننھے منے سینہ میں سمیٹ کر صرف اور صرف اپنے والد بزرگ کے حکم پر اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ڈولی میں داخل ہو گئی اس روئیداد کو امروز اخبار میں تفصیل سے شائع کیا گیا لیکن جماعت احمدیہ کے گھرانہ کا ذکر الفضل ۷ مارچ ۱۹۸۷) نہ کیا گیا۔محترم چوہدری رحمت خاں صاحب ( وفات یافتہ ) محکمہ تعلیم سے فارغ ہوئے تو بطور امام بیت لنڈن تقرری ہوئی ۱۹۶۰ء میں گئے ۱۹۶۴ء میں واپس تشریف لے آئے ان کا جو ان ۲۶ سال کا بیٹا اعلی تعلیم کیلئے ان کے پاس تھا چوہدری صاحب واپس اُس کو وہاں چھوڑ کر پاکستان آگئے۔اس کی رہائش بیت الفضل لنڈن میں تھی بیت کے لان میں صفائی کرتے ہوئے کرنٹ لگنے سے اللہ کو پیارا ہو گیا عزیزی مسعود احمد 4 سال سے والدین سے جدا تھا اور سب سے چھوٹا بیٹا تھا مکرم چوہدری رحمت خاں صاحب احمدیہ ہوٹل لاہور میں سپر نٹنڈنٹ تھے ان کو اطلاع ملی کہ مسعود اللہ کو پیارا ہو گیا یہ الفاظ کہ اللہ کی طرف سے آئے اور اللہ کی طرف چلے گئے کہے اور احباب کو خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔عزیزی مسعود کی نیکی، تقوئی اور اخلاص اور لیاقت کی وجہ سے حضرت