سفر آخرت — Page 30
30 ہمارے نزدیک میت کے رشتہ دار یا جماعت کے ذمہ دار عہدے دار حسب صوابدید و موقع مناسب فیصلہ کر سکتے ہیں جس طرح بیماری کی صورت میں اگر لیڈی ڈاکٹر نہ ملے تو عورت مرد ڈاکٹر سے بھی علاج اور قابل ستر حصہ میں بیماری کی تشخیص کر سکتی ہے اسی طرح یہاں بھی یہی طرز عمل اختیار کیا جاسکتا ہے بہر حال یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے اور پردہ دار غیر محرم کو چھونے کی ممانعت سے متعلق عام ہدایات پر اس اجتہاد کی بنیاد ہے فقہا ء نے اس سلسہ میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے: ہدایۃ المجتہد الباب الثاني في غسل الميت الفصل الثالث - صفحه ۱۷۹/۱، فقہ احمدیہ ) -۲۸ غیر مسلم کی وفات اسلامی معاشرے میں اگر کوئی غیر مسلم مسلمان کے ہاں یا اسلامی معاشرے میں فوت ہو جائے اور اس کے لواحقین کے لئے اسکی تجہیز و تکفین کا انتظام کرنا ممکن نہ ہو تو تکفین اور تدفین کا انتظام مسلمان اپنے طریق پر کر سکتے ہیں البتہ نسل دینے کی ضرورت نہیں۔بحوالہ (الف) ابوداؤ د باب الرجل بموت له قرابة مشترک صفحه ۱۵۲/۲ (ب) ہدایہ صفحہ ۱/ ۱۴۰) ۲۹۔نماز جنازہ جوتیوں سمیت اور ننگے سر پڑھنے کے بارے میں (الف) نماز جنازہ جوتیوں سمیت پڑھنے کے بارے میں حدیث میں امر پوری وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ جوتی کے ساتھ نماز جائز ہے حدیث کی ہر مشہور کتاب میں یہ روایت موجود ہے کہ ہم جو مساجد میں جوتیاں لے جانے سے منع کرتے ہیں تو اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ مساجد میں صفائی رہے دریاں اور فرش گندے نہ ہوں ورنہ یہ ممانعت کسی شرعی حکم کی وجہ سے نہیں ہے۔نماز جنازہ چونکہ مسجد کے باہر ہوتی ہے اس لئے جوتیاں پہن کر نماز جنازہ ادا کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔(ب) نگے سر نماز ادا کرنا پسندیدہ امر نہیں کیونکہ یہ امر بزرگوں اور سلف صالحین