حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 6
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 6 مکہ واپس آنے کے تھوڑے عرصہ بعد حضرت زبیر نے اپنی والدہ محترمہ حضرت صفیہ اور اہلیہ حضرت اسما کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔مدینہ منورہ میں حضرت صفیہ اپنے بیٹے حضرت زبیر کے ساتھ رہتی تھیں اور وہ ان کی دل و جان سے خدمت کرتے تھے۔آپ کے ہاں 1 ہجری میں حضرت عبد اللہ بن زبیر پیدا ہوئے۔حضرت صفیہ کے اس پوتے کی ولادت تاریخ اسلام میں بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ان کی ولادت سے پہلے کئی ماہ تک کسی مہاجر کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تھی اور یہود مدینہ نے مشہور کر دیا تھا کہ ہم نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے اور اب ان کی کوئی اولاد نہیں ہوگی۔حضرت عبداللہ کی پیدائش نے ان کا یہ جھوٹ کھول دیا اور مسلمان بے حد خوش ہوئے اور انہوں نے خوشی اور جوش سے جب نعرہ تکبیر بلند کیا تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ مدینہ کے پہاڑ گونج اُٹھے ہیں۔حضرت صفیہ بہت بہادر اور دلیر خاتون تھیں اکثر جنگوں میں آپ شریک ہوئیں۔آپ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتیں ، پانی پلاتیں اور کئی مرتبہ تو نوبت یہاں تک آئی کہ تلوار پکڑ کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑیں۔غزوہ اُحد 3 ہجری میں جب مسلمانوں کی غلطی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں میں انتشار پھیل گیا اور کفار مکہ نبی کریم ع کے گردا کٹھے