حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب

by Other Authors

Page 7 of 17

حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 7

حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب ہو گئے تو حضرت صفیہ ہاتھ میں نیزہ لئے مدینہ سے نکلیں اور جولوگ واپس مدینہ کی طرف آرہے تھے اُن کو شرم و غیرت دلاتیں اور بکھرے ہوئے مسلمانوں کو نہایت غصہ سے للکار کر فرماتیں:۔"رسول اللہ علی کو چھوڑ کر چل دیئے ! (7) صلى الله حضرت صفیہ کی آواز سن کر سب مسلمان بنی کریم ﷺ کے قریب آگئے اور آپ میں لے کو حفاظت میں لے لیا۔غزوہ احزاب 5 ہجری میں سارے عرب کے مشرکین اور یہود نے مل کر مسلمانوں کے مرکز پر حملہ کر دیا اور مدینہ منورہ کے اندر تو بنوقریظہ خاص طور پر مسلمانوں کے جانی دشمن ہو گئے۔مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑی آزمائش تھی لیکن ان کے قدم ذرا بھی نہ ڈگمگائے کیونکہ اُنہوں نے تو اپنی جان اور مال اللہ کی راہ میں دینے کا عہد کر رکھا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ عورتوں اور بچوں کو یہودیوں کے شر سے کیسے بچایا جائے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے تمام مسلمان خواتین اور بچوں کی حفاظت کی خاطر انصار کے ایک قلعہ ' فارع میں منتقل کر دیا اور حضرت حسان بن ثابت کو ان کی نگرانی پر مقرر کر دیا۔اگر چہ قلعہ خاصہ مضبوط تھا لیکن پھر بھی یہ انتظام خطرے سے خالی نہ تھا۔آنحضرت علی تو اپنے جان شاروں کے ہمراہ جہاد میں مشغول تھے۔اسی لئے بنو قریظہ صلى الله