سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 489 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 489

۴۸۹ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم از مقام بمبئی: مورخه ۱۹ رستمبر ۱۹۲۴ء السلام عليكم ورحمة الله وبركاته حضور بازار سے واپس تشریف لے آئے ہیں۔ڈیلی میل کا نامہ نگار فوٹو لینے کو آیا ہوا تھا لے کر چلا گیا ہے۔۲ کالم کے قریب مضمون لکھ کر اخبار میں شائع کر رہا ہے۔فوٹو بھی ساتھ دے گا۔جہلم سے مولوی عبد المغنی خان صاحب ابن حضرت مولانا برھان الدین صاحب مرحوم تشریف لائے ، ایڈریس پڑھا۔حضور نے ایڈریس کا جواب دیا اور فرمایا کہ میں جزاکم اللہ احسن الجزاء کہتا ہوں۔تعریف اور شکریہ کی مستحق در حقیقت ذات پاک باری تعالیٰ ہے کیونکہ ہر قسم کے فیوض و برکات اسی کی طرف سے آئے اور آتے ہیں اور وہی مبداء انور اور سر چشمہ خیر و برکت ہے۔پس اصل شکر یہ تو اسی ذات کا کرنا چاہئے۔باقی جن ممالک میں ہم گئے ہیں وہاں کے لوگ ا ایک حاکم قوم ہونے کی وجہ سے ایک قسم کے تکبر اور غرور میں ہیں۔انگلستان سے علا وہ دوسری قو میں بھی ہندوستانیوں کو ذلیل و حقیر سمجھتی ہیں۔ان حالات میں اپنی رعیت کے ایک فرد کی آواز پر توجہ کرنا واقعی حیران کن تھا مگر یہ جو کچھ ہوا محض خدا کے فضل کا نتیجہ تھا۔دوسرے وہ اپنے علم سائنس اور تمدن کو اس قدر ترقی یافتہ اور بڑھا ہوا خیال کرتے ہیں کہ وہ تمام دنیا کو اپنے مقابلہ میں بیچ سمجھتے ہیں۔مذہب کے نام سے تو انہیں جو کچھ کہو وہ سن لیں گے مگر ان کے تمدن کے خلاف کوئی بات کہو تو ان کی آنکھیں چمک اُٹھیں گی اور چہرے متغیر ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ سینکڑوں سال کے تجربہ اور محنت و کوشش سے ہم نے ایسی باتیں نکالی ہیں ان کے خلاف بھی بھلا کوئی کچھ کہنے کا حق رکھ سکتا ہے؟ ایسے آدمی کو پاگل اور جاہل خیال کرنے لگ جاتے ہیں مگر ( دین حق ) چونکہ وسیع علوم پر مشتمل اور کامل قانون ہے اور اس کو ہر حصہ انسانی زندگی میں دخل دینا پڑتا ہے اس وجہ سے ہمیں ایسی باتیں بھی کہنی پڑتی ہیں جو ان لوگوں کے تمدن کے خلاف ہیں مگر ان باتوں پر وہ چمک اُٹھتے۔وہ کہتے تھے کہ مذہب بتاؤ مگر اس کے فروعات اور تشریحات میں مت جاؤ۔عیسی خدا نہیں