سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 478 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 478

CLA وغیرہ سے احباب آئے اور اظہار محبت کیا جن سے جماعت کی محبت کی اس روح کا پتا لگتا ہے جو حضور کی غیر حاضری از ہند کے زمانہ کی وجہ سے پہلے سے بھی زیادہ تیز ہورہی ہے۔ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب بعض دوست حضور کی خدمت میں تختہ جہاز پر پہنچ کر شرف ملاقات پاتے رہے۔پھر حضور جہاز سے نیچے تشریف لے آئے اور حضور نے ایک لمبی دعا سرزمین ہند پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی کی۔بعض فوٹو گرافر اور اخبارات کے نمائندے موجود تھے۔دعا کے بعد حضرت مفتی صاحب نے تمام جماعت کی نمائندگی کی اور ایک ایڈریس جو نہایت خوشخط لکھا اور ایک نہایت ہی خوبصورت چاندی کی نکی میں ڈالا ہوا تھا پڑھا۔جس میں یورپ میں خدا کے فضلوں اور رحمتوں کی بارش اور کامیابیوں پر اور حضور کی کامیاب بخیریت واپسی پر مبارک باد پیش کی گئی تھی اور بہت اچھے پیرا یہ میں نیاز مندی و عقیدت کا اظہار کیا گیا تھا۔حضور نے اس ایڈریس کا جواب دیا اور سفر یورپ کی خارق عادت بلکہ معجزانہ اور بالکل غیر متوقع کامیابی کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے جماعت کو اس کی ذمہ داری کے بڑھ جانے اور پہلے سے زیادہ قربانیوں کے لئے تیار ہو جانے کی تاکید فرمائی اور فرمایا کہ ان نعمتوں کے پانے کے بعد ان کی قدر کرو اور ہدیہ شکرانہ ادا کرو تا کہ نعمتیں اور زیادہ ہوں ورنہ دوسری طرف وعید بھی موجود ہے جو بہت خطرہ کا مقام اور ڈر کی جگہ ہے۔لئن شکرتم لازيد نكم ولئن كفر تم ان عذابي لشدید- آخر میں حضور نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو خدمت دین کی پہلے سے بھی زیادہ توفیق عطا فرما دے۔خدا کے فضل اور انعامات بھی جہاں قائم ودائم رہیں وہاں ہمیشہ زیادہ سے زیادہ بھی ہوں۔ایڈریس کے جواب کے بعد ایک فوٹو کے لئے مجمع کو دوسری طرف لے جایا گیا تا کہ فوٹو گرافر جو کسی اخبار کا نامہ نگار تھا فوٹو لے سکے۔کثرت سے لوکل آدمی ساحل سمندر پر حضور کے استقبال کے لئے بھی جمع تھے مگر افسوس کہ ان کو ہمارے دوستوں نے حضرت کی حضوری اور باریابی کا موقع نہ دیا اور وہ بے چارے دھکے کھا کھا کر ادھر کے اُدھر اور اُدھر کے ادھر ہو جاتے رہے اور آخر چلے گئے۔اخبار کا اردو شارٹ ہینڈ رائیٹر نمائندہ بھی وہاں موجود تھا۔ڈیلی میل اور ٹائمیز دونوں مشہور اخبارات کے نمائندے آئے اور حضور سے انٹرویو کر کے چلے گئے۔ہمارے قافلہ کے بمبئی