سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 477 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 477

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم از مقام بمبئی : مورخه ۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء السلام عليكم ورحمة الله وبركاته جہاز کے پورٹ پر پہنچنے تک کے حالات عرض کر چکا ہوں - ڈاک چونکہ جلدی روانہ ہونے والی تھی میں نے اس خط کو وہیں بند کر کے حوالہ ڈاک کیا تا کہ تازہ حالات آپ تک پہنچ سکیں۔یہ عریضہ میں نے ۱۸ کو مکان پر پہنچ کر شروع کیا۔مگر آج ۱۹ کی صبح ہے۔کل ۴ سطور سے زیادہ نہ لکھ سکا۔کچھ دوستوں کی ملاقات کچھ اپنا شوق قادیان۔جوں جوں قرب بڑھتا ہے آتش محبت و شوق تیز ہوتی جارہی ہے۔اور نہیں تو حالات وطن سن کر ہی دل کو دوسری طرف لگا نا پڑتا ہے اس وجہ سے اب شاید مختصراً نہایت ضروری حالات ہی لکھ سکوں گا۔ہمارا جہاز جب گودی کے اتنا قریب ہوا کہ دوست ہمیں اور ہم دوستوں کو شناخت کر سکیں تو خوشیوں کی لہریں محبت کے ولولے اور شوق کی آگ بڑھنے گی - اهلا و سهلا و مرحباً - السلام عليكم ورحمة الله و بركاته الله اكبر - الحمدلله کے نعرے بلند ہونے شروع ہوئے جن سے فضا میں گونج پیدا ہو جاتی تھی۔دور سے جو چیز ہمیں کوئی سبز نشان یا جھنڈا معلوم دیتا تھا اب وہ مفتی صاحب کے وجود میں تبدیل ہو گیا۔کم و بیش ایک سو دوستوں کا مجمع ساحل سمندر پر اس خوشی میں شریک نظر آتا تھا جن میں ایک حصہ تو بالکل اجنبی اور لوکل معلوم ہوتا تھا۔جہاز جب ٹھہر گیا سیڑھی لگائی گئی تو دوستوں کو اوپر آنے کا موقع ملا جن میں سے ( سب سے پہلے برادر عزیز مولوی نیک محمد خان صاحب تختہ جہاز پر پہنچ کر حضرت اقدس کی دست بوسی کی سعادت اور عزت سے مشرف ہوئے اور ان کا یہ عمل پروانگی کے ساتھ گونہ دیوانگی کا رنگ لئے ہوئے تھا ) اس تقریب پر جو نمونہ دوستوں نے دکھایا۔جس وفور محبت اور ایثار سے بڑی بڑی قربانیاں کر کے دوست ساحل سمندر پر پہنچے ہیں وہ گویا جماعت کی سچی روح اور دلی محبت کی ترجمانی کر رہا تھا۔تمام ہندوستان کے نمائندے سید نا محمود کا خیر مقدم کہنے کو موجود تھے۔قادیان ، لاہور، پشاور ، کلکتہ، رنگون ، برهما، هموگا، حیدر آباد دکن ، حیدر آباد سندھ ، بنگلور، برار، مالا بار، منصوری