سفر یورپ 1924ء — Page 462
۴۶۲ سوال تو بس ہندو مذہب کی اصلاح کی ضرورت ہے جو کر کے اصل پر قائم کرنے کے بعد پھر کسی دوسرے مذہب کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا بچے کی ضروریات جو ان اور بڑھے مردوں کی ضروریات سے مختلف ہوتی ہیں۔ہندو مذہب کی اصل تعلیم ابتدائی اور انسان کی حالت ابتدائی کے مطابق ضرورت زمانہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے مخصوص الوقت تھی مگر اب انسان ترقی یافتہ ہے اور وہ محمد رسول اللہ کے زمانہ میں ترقی کرتے کرتے اس حد تک پہنچ چکا تھا جس میں بچپن کی بجائے پختہ عمری کے زمانہ کی تعلیم ہونی چاہئے تھی ، چنانچہ یہ تعلیم آنحضرت کے زمانہ میں آپ کی معرفت دی گئی اور چونکہ یہ ایک کامل تعلیم تھی اس لئے اس تعلیم کے تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف غلطیاں مرورِ زمانہ کی وجہ سے تراجم وغیرہ میں ہو چکی ہیں ان کی اصلاح کی ضرورت تھی۔سوال کچھ مدت کے بعد زمانہ ترقی کرتے کرتے اس حالت تک پہنچ جائے گا کہ پیغمبر خدا کے وقت کو وحشیانہ زمانہ خیال کیا جائے گا اور وہ تعلیم دنیا کے لئے موزوں و مناسب نہ ہوگی۔فرمایا اب تک اسلام کی کوئی تعلیم ایسی نہیں ثابت ہو سکی جسے سائنس یا فلسفہ رڈ کرسکتا یا زمانہ ترقی پا جانے کے باوجود اس کی عدم ضرورت کو ثابت کر سکتا۔آئندہ ابھی بحث سے خارج ہے آپ کوئی ایسی تعلیم بتائیں جو اسلام میں مورد اعتراض ہوئی ہو۔(اب تک ) یا زمانہ کی کوئی ایسی ضرورت بتا ئیں میں ثابت کروں گا کہ اس ضرورت کو اسلام کی تعلیم پورا کرتی ہے۔دیکھئے اسلام نے ایک چیز کو منع فرمایا جو دنیا بھر میں رائج تھی مگر آج کس طرح دنیا اس کی مضرت کو تسلیم کر کے اس کے ترک کرنے کے درپے ہے۔سوال کیا عیسائیت ہندو مذہب سے بہتر ہے؟ فرمایا: ہاں۔سوال کیا بچے اور جوان کی روح میں کوئی فرق ہے؟ فرمایا کوئی فرق نہیں مگر ضروریات جُدا جُدا ہیں اور دونوں کے فہم و عقل میں بڑا فرق ہے۔