سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 443 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 443

۴۴۳ پڑھے پڑھائے تھے آج بھی ایک جلسہ کریں۔ظہر و عصر کی نمازیں حضور نے خود ہی پڑھائیں اور کھانے کو تشریف لے گئے۔حضور کے کھانے سے واپس آنے سے پہلے ہی پہلے سیکنڈ کلاس کے دوست کھانے سے فارغ ہو چکے اور انہوں نے تمام دوستوں کو اوپر بلوالیا اور مجلس مشاعرہ قائم ہوگئی۔نظم خوان دوستوں نے نظمیں پڑھیں اور تقاضا ہورہا تھا کہ سبھی دوست کچھ نہ کچھ سنا ئیں کہ اتنے میں حضور بھی اوپر ہی تشریف لے آئے اور پھر مجلس با قاعدہ لگی اور سب کو باری باری کچھ نہ کچھ سنانا پڑاھتی کہ حضرت نے بھی فرمایا کہ میں بھی سناؤں گا مگر شرط یہ ہے کہ میرے قریب قریب ایک فٹ کے دائرہ میں آ جائے جس نے سننا ہو۔سب نے سنایا اور بعض دوست چھپے رستم نکلے۔حضور نے ان کے لہجہ اور آواز کو پسند فرمایا۔میرے لئے یہ پیالہ سخت مشکل تھا۔میں نے بھاگ کر جان چھڑانے کی کوشش کی مگر حضرت اقدس نے دیکھ کر پکارا کہ پکڑو پکڑو بھائی جی بھاگے۔خیر میں پکڑا گیا اور سنانا پڑا۔ساری مجلس کا پہلا لطف میں نے بدمزگی اور بے لطفی سے بدل دیا کیونکہ سب سے بھڑی پھوٹے ڈھول کی سی میری آواز تھی۔میرے بعد حضرت اقدس نے خود چند اشعار غالب ”اے تازہ واردان بساط ہوائے دل کے سنائے اور ایسے لہجے میں پڑھے کہ دل سے درد اُٹھتا تھا۔دوست سب قریب قریب جمع تھے ایک گھنٹہ یا اس کے قریب قریب یہ مجلس رہی۔اس کے بعد حضور وہاں سے اتر کر ہمارے چبوترہ پر تشریف لائے اور کوئی آدھ گھنٹہ تک تشریف فرما ر ہے۔چوہدری علی محمد صاحب کو آفاقہ ہے۔۷/ نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور یوں تشریف نہ لا سکے کہ مؤذن نے حضور کو اطلاع دی اور آہستہ آہستہ دروازہ کھٹکھٹایا کیونکہ حضرت اقدس نے حکم دے رکھا ہے کہ دروازہ ایسی طرح نہ کھٹکھٹایا جایا کرے کہ پڑوسی لوگوں کو تکلیف ہو کیونکہ وہی وقت ان بے چاروں کے سونے کا ہوتا ہے اور زور سے کھٹکھٹانے سے ان کی نیند خراب ہوتی ہے۔ایک مرتبہ پھر دوبارہ بھی مؤذن صاحب گئے مگر حضور نہ بولے۔آخر نماز پڑھالی گئی مگر جو نہی کہ سلام پھیر کر بیٹھے حضور تشریف لے آئے اور جماعت ہو چکی دیکھ کر مصلی لے کر اپنے کمرہ