سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 439 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 439

۴۳۹ قابل ذکر ہے۔نہ صرف اس لئے کہ ایک واقعہ کو بیان کروں بلکہ اس لئے بھی کہ ان کے واسطے دعا کی جاوے۔حضور کے تشریف لے جانے کے بعد صبح کو وہ بہت خوش خوش اِ دھر اُدھر ٹہلتے تھے۔طبیعت میں غیر معمولی جوش تھا۔چبوترہ سے اُترے اور پورے جوش میں قادیان کے میدان کرکٹ کی یاد میں ایک اور ہینڈ بال کے لئے ہاتھوں کو چکر دیا۔فرش جہاز بھی ابھی دھویا جا چکا تھا اور ابھی خشک نہ ہوا تھا۔گیلا اور پھسلنا تھا۔ایک جوان آدمی پورے زور اور خوشی کی امنگ میں اور ہینڈ بال دینے کو زور سے ہاتھوں کو گھمائے ایک مشین اور شاید کئی گھوڑوں کا زور پیدا ہو جاتا ہے۔جو نہی انہوں نے ہاتھ گھمایا نیچے سے دونوں پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ دھڑام سے زمین پر چھاتی کے بل آن پڑے۔گرنے کا دھما کہ ایک چھت کے گر جانے سے کم نہ تھا۔میں ان کے قریب ہی کھڑا تھا مگر میرا منہ دوسری طرف تھا۔ان کو حرکت کرتے یا گرتے نہ دیکھا بلکہ دھما کا سن کر لوٹا تو وہ لکڑی کے فرش پر تڑپتے تھے۔فوراً اُٹھانے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر صاحب ( جنہوں نے ان کو گرتے دیکھا تھا اور دوڑ کر آگئے تھے ) نے اُٹھانے سے روک دیا۔ان کا دم اُلٹ گیا۔سانس رُک گیا۔چہرہ زرد پڑ گیا۔نبض چھٹ گئی اور دل کی حرکت میں بھی لغزش پیدا ہوگئی جس سے بے حد ضعف ہو گیا۔فوراً مقوی دل ڈبل ڈوز دیا گیا۔اُٹھا کر تھام تھما کر چبوترہ اور گدیلوں پر ڈالا گیا اور بدن کو گرم کرنے کی کوشش کی گئی مگر جوں جوں چوٹ کا مقام ٹھنڈا ہوتا گیا درد اور تکلیف زیادہ ہوتے گئے اور ڈاکٹر صاحب کو بھی اندیشہ ہو گیا کہ مبادا کوئی خطرہ کی صورت پیدا ہو جائے۔بہت دیر بعد بہت کوشش اور محنت سے آخر ان کی طبیعت ایسے انداز پر آئی کہ ڈاکٹر صاحب نے تسلی دلائی کہ اب خطرہ سے نکل گئے ہیں اور روبصحت ہیں مگر وہ دن بھر اور رات کو بھی دردوں سے چکنا چور رہے۔چوٹ جگر کی طرف کے حصہ پر آئی ہے اور ایسی شدید آئی کہ چھاتی پر نیل پڑ گئے۔خون جمع ہو کر ورم ہو گیا اور ہاتھ لگانا تو در کنار کپڑے کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے انسان کیسا کمزور ہے ایک دم کی خبر نہیں۔ابھی کیا تھا اور ابھی کیا ہو گیا - صدق الله تعالى اذقال لا تموتن الا و انتم مسلمون - انسان غفلت میں پڑ کر بڑی لمبی اُمید میں اور وسیع پروگرام بنا تا رہتا ہے۔