سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 415 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 415

۴۱۵ پھرتے کام کاج کرتے اچھے لگتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے اللہ کریم نے اس علاقہ کو بھی خاص خوبصورتی اور رونق بخشی ہے اور سوئیٹزرلینڈ بھی کشمیر کی سی شکل وصورت دیا گیا ہے اور قدرت نے اس علاقہ کو بھی خاص فضل سے اچھا خوبصورت بنایا ہے۔گو موسم میں خزاں کا رنگ پیدا ہوا جا تا ہے اور پت جھڑ کا موسم آ جانے کی وجہ سے پوری خوبصورتی اس وقت موجود نہیں مگر موجودہ حالات سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بہار کے موسم میں کیا رونق اور کیا خوبصورتی اس گلستان ملک میں ہوتی ہوگی۔دنیا کی سب سے بڑی پہاڑی سرنگ جو ۱۳ میل کے قریب لمبی بتائی جاتی ہے اسی علاقہ میں ہے۔اس ٹنل (Tunnel) کے خاتمہ پر ڈوم ڈوسولا (Dom Dossola) اسٹیشن پڑتا ہے جہاں سے حکومت اطالیہ کا آغاز اور سوئیس گورنمنٹ کا اختتام ہے۔پیرس میں ایک ٹاور ( منار ) لو ہے کا بنا ہوا ہے جس کی بلندی ۸۹۰ فٹ ہے اور دنیا کی بلند ترین یادگار ہے۔اس کی پہلی منزل پر بہت بڑا ہال کمرہ بنایا گیا ہے جہاں چائے وغیرہ کے لئے ریسٹورنٹ اور بعض دیگر فضولیات کے سامان ہیں۔بلندی پر بذریعہ لفٹ چڑھا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور بہت بڑا ہال بنایا گیا ہے جہاں ایک وقت میں چھ ہزار آدمی کرسیوں پر بیٹھ کر لیکچر سن سکتے ہیں۔یہ مکان بھی بہت شاندار سمجھا گیا ہے اور فن تعمیر کا عجوبہ بتایا جاتا ہے۔شانذ الیڈا اور اس کے آگے نکل کر ایک بہت بڑی وسیع پارک ہے جو اپنی وسعت میں مشہور اور صفائی اور خوبصورتی میں شہرہ آفاق ہے۔شا تو ڈی ویفائے (Chateau De Versailles) کے باغات روشیں اور سڑکیں اور آبادی کے محلات شاہی اور دیگر شاندار عمارات جن کو سید نا حضرت فضل عمر نے ۳۰ر کی صبح کو مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور خلیفہ تقی الدین صاحب کے ساتھ ہو کر معائنہ فرمایا ، بہت ہی مشہور اور خوبصورت مقامات ہیں۔موجودہ پریذیڈنٹ فرانس بھی غالباً آجکل وہیں رہتے ہیں۔اس لحاظ سے وہ مقامات بہترین خوبصورت اور صاف ہونے کے علاوہ شاہی شان و شوکت اور داب حکومت کے اظہار کے لئے خاص طور پر نمایاں ہیں۔حضور نے آج کی سیر میں بعض مقامات کو خاص طور پر پسند فرمایا اور خوش ہوئے۔پیرس جیسا کہ مشہور ہے عروس البلاد ہے۔واقعی ایسا ہی نظر آتا ہے۔دریائے سین کے