سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 31 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 31

۳۱ کھانا کھانے کو تشریف لے گئے اور پھر جلدی ہی واپس آگئے اور بہت دیر تک نظم کا سلسلہ جاری رہا حتی کہ اس شغل میں ڈیڑھ بج گیا۔جہاز کے ڈاکٹر کو ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب نے کچھ لٹریچر دیا تھا جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔یہ اٹالین ڈاکٹر بڑا سمجھدار آدمی ہے اور تحقیق کا اس کو شوق ہے۔بہت تھوڑی انگریزی جانتا ہے مگر انگریزی اخبار اور کتب کا مطالعہ کرنے کا شوق رکھتا ہے۔اس نے کچھ اور لٹریچر مانگا۔ہمارے خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب نے حضرت کے حضور بعد عصر کی مجلس میں ذکر کیا۔حضور نے فرمایا پہلا لٹریچر پڑھا بھی ہے یا یونہی کتا بیں جمع کرنے کا شوق ہے۔خان صاحب نے عرض کیا حضور سمجھ کر پڑھتا ہے چنانچہ اس نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ احمدی اور دوسرے مسلمانوں میں فرق کیا ہے؟ اس کا جواب میں نے یہ دیا تھا کہ ”ہم لوگ احمدی حضرت مسیح موعود کو مانتے ہیں اور دوسرے مسلمان نہیں مانتے“ دلیل پیش کرنے کا طریق: اس پر حضور نے فرمایا کہ اس کا سوال تو بالکل معقول اور نیچر کے مطابق ہے مگر اس کا جواب کافی نہیں۔خان صاحب آپ اب ایسے ملک کو جا رہے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ بہت ہی باریک نظر رکھتے ہیں اور کہ دلائل سے بات کو مانتے ہیں۔اب آپ کو بھی چاہئیے کہ اپنی گفتگو میں دلائل کو وہی رنگ دیں اور ان کے مذاق اور عقل و فہم کے مطابق ان سے گفتگو کرنے کی عادت ڈالیں تا کہ بات بے وقعت ہلکی اور بے اثر نہ جائے۔اگر آپ ڈاکٹر کو صرف یہی جواب دے دیتے کہ ہم میں اور ہمارے غیروں میں یہ فرق ہے کہ ہم لوگ مانتے ہیں کہ ریوولیوشن (Revolution) کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کے لئے کھلا ہے اور وہ لوگ اس کے خلاف یہ مانتے ہیں کہ ریوولیوشن (Revolution) کا دروازہ اب بالکل بند ہے۔ہم اپنے عقیدہ کے مطابق یقین رکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں بھی ایک بہت بڑا ریفارمر آیا اور وہ حضرت مسیح موعودؓ تھے اور وہ لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں وغیرہ۔تو اس طریق جواب سے اس کو ایک عظیم الشان فرق بھی نظر آ جاتا اور بات کی اہمیت بھی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی اور حضرت مسیح موعود کا وجود بھی پیش ہو جا تا وغیرہ وغیرہ۔نماز ظہر و عصر کے واسطے حضور کے تشریف لانے کی خبر آئی۔میں نماز کے واسطے جگہ بنا