سفر یورپ 1924ء — Page 30
بجائے پورٹ سعید کے سویز ہی میں اُتر جائیں اس طرح سے بھی ایک دن بچ سکتا ہے۔یہ تجاویز اور سکیم حضور کے زیر غور ہیں غالبا عدن تک یا کم از کم سویز پہنچنے تک حضورضرور کوئی فیصلہ کن تجویز فرما کر احکام نافذ فرمائیں گے انشاء اللہ اور مجھ سے جو بن پڑے گا عرض کرتے رہنے کی کوشش کروں گا۔فروگذاشتوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشی فرما ئیں میرے آقا اور میرے خدا دوست بھی۔حضور کی وہ نظم جیسی ہے درج کر ہی دیتا ہوں شاید کام آ سکے۔صید و شکار غم ہے تو مسلم خستہ جان کیوں اُٹھ گئی سب جہان سے تیرے لئے امان کیوں ؟ بیٹھنے کا تو ذکر کیا ، بھاگنے کو جگہ نہیں ہو کے فراخ اس قدر تنگ ہوا جہان کیوں ؟ ڈھونڈھتے ہیں تجھی کو کیوں سارے جہاں کے ابتلا پیستی ہے تجھی کو ہاں گردشِ آسمان کیوں ؟ کیوں بنیں پہلی رات کا خواب تری بڑائیاں قصیم ما مضی ہوئی تیری وہ آن بان کیوں ؟ ہاتھ میں کیوں نہیں وہ زور، بات میں کیوں نہیں اثر چھینی گئی ہے سیف کیوں ، کاٹی گئی زبان کیوں ؟ واسطہ جہل سے پڑا وہم ہوا رفیق دہر علم کدھر کو چل دیا ، جاتا رہا بیان کیوں ؟ رہتی ہیں بے شمار کیوں تیری تمام محنتیں تیری تمام کوششیں جاتی ہیں رائیگان کیوں ؟ سارے جہاں کے ظلم کیوں ٹوٹتے ہیں تجھی پہ آج بڑھ گیا حد صبر سے عرصئہ امتحان کیوں ؟ تیری زمین ہے رہن کیوں ہاتھ میں گبر سخت کے تیری تجارتوں میں ہے صبح و مسا زیان کیوں ؟ کسب معاش کی رہیں تیری ہر اک گھڑی ہے جب تیرے عزیز پھر بھی ہیں فاقوں سے نیم جان کیوں؟ کیوں ہیں یہ تیرے قلب پر کفر کی چیرہ دستیاں دل سے ہوئی ہے تیرے محو خصلت امتنان کیوں؟ خُلق تیرے کدھر گئے خلق کو جس یہ ناز تھا دل تیرا کیوں بدل گیا بگڑی تری زبان کیوں ؟ تجھ کو اگر خبر نہیں اس کے سبب کی مجھ سے سُن تجھ کو بتاؤں میں کہ برگشتہ ہوا جہان کیوں ؟ منبع امن کو جو تو چھوڑ کے دور چل دیا تیرے لئے جہان میں امن ہو کیوں امان کیوں؟ ہو کے غلام تو نے جب رسم وداد قطع کی اس کے غلام در جو ہیں تجھ پہ ہوں مہربان کیوں؟ حضور کی طبیعت صاف نہ تھی۔دن بھر اپنے کمرہ کے دروازے بند کر کے لیٹے رہے اور خدام کے لئے دعائیں کرتے رہے۔عصر کے وقت تشریف لائے۔ظہر وعصر کی نمازیں باجماعت پڑھائیں اور وہیں تشریف فرما ر ہے۔رات کے دس بج گئے تو حضور شام وعشاء کی نمازیں پڑھا کر