سفر یورپ 1924ء — Page 404
۴۰۴ انگریز نے کہا کہ میں نے تو اپنی ہسٹری میں ایسا نہیں کیا۔حضور نے فرمایا یہ بات تو میں نے صرف بطور مثال کے کہی ہے۔ورنہ کئی باتیں ایسی ہیں جن میں یہی رنگ پایا جاتا ہے۔انگریز نے ایک بنگالی کا نام لیا کہ وہ بڑا ہسٹورین ہے۔اس نے سیوا جی کے متعلق ایسا نہیں لکھا۔حضور نے فرمایا بنگالیوں اور مرہٹوں کی ہمیشہ سے آپس میں عداوت رہی ہے۔مرہٹے اپنے آپ کو بڑا بتاتے آئے ہیں اور بنگالی اپنے آپ کو۔وہ بھی از روئے تحقیق نہیں لکھا گیا بلکہ عداوت اور ذاتی اغراض کی بنا پر ہے۔فرمایا میں نے خوب مطالعہ کیا ہے ان باتوں سے خالی شاید ہی کوئی انگریز ہو گا۔کوئی کسی جگہ غلطی کر جاتا ہے کوئی کسی جگہ وغیرہ۔ان باتوں کو سن سن کر اور حضور کے علم کو جانچ جانچ کر آخر سر ڈینی سن راس نے اسی جگہ کہا تھا کہ اگر حضور مارگولی استھ کے لیکچر میں ہوتے تو ضرور اس کی اچھی طرح سے خبر لیتے۔ابھی ابھی تو ایسا متائثر تھا اس لیکچر کا کہ اس کے دلائل کی بنا پر حضور سے جھگڑا کرتا تھا اور جب حضور کی باتیں سنیں تو مارگولی ایتھ کو کہ دیا کہ غلط کہتا ہے۔اس کی بات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی یونہی ایک غلط خیال ہے۔انگریز لڑ کا جس سے حضور نے عربی کا اخبار سنا تھا کانپتا تھا۔ہاتھ بھی اس کے کانپتے تھے اور لب بھی تھرا ر ہے تھے۔سنا کرتے تھے کہ انگریز لٹر کے نروس نہیں ہوتے مگر اس لڑکے کا تو یہ حال تھا۔حضور نے طرز تعلیم دیکھنے کی اغراض سے استاد کو کہا کہ ہمارے سامنے پڑھاؤ تو اس نے کہہ دیا کہ میں سبق ختم کر چکا ہوں۔بار بار کہنے سے بھی نہ پڑھا کر دکھایا اور عذر کرتا رہا۔حضور نے بھی زیادہ مجبور نہ کیا اس کے عذر کو سمجھ لیا۔مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنے سفر کے حالات مختصراً لکھے ہیں۔دوستوں کی اطلاع کی غرض سے وہ اصل خط بھی شامل ہذا کرتا ہوں۔وہ گفتگو جو حضور نے قرآن کریم کے نزول سے پہلے عرب میں شاعری کے موجود ہونے کے متعلق کی اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے جو میں نے شیخ عبد الرحمن صاحب مصری سے لیا ہے۔سوال نمبر1 = تحریری رنگ میں ان اشعار کا کوئی ثبوت نہیں کیونکہ اس زمانہ میں تحریر کا رواج نہ تھا۔