سفر یورپ 1924ء — Page 403
۴۰۳ پڑھائیں اور پھر بازار میں تشریف لے گئے اور شام کے بعد واپس آئے۔کھانا کھا کر تشریف لے گئے اور نمازیں اپنے کمرہ میں ادا کیں۔ہم لوگوں نے بھی جمع کر کے پڑھیں۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ہالینڈ پہنچ کر حضرت اقدس کے حضور حالات سفر کے متعلق خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ہوائی جہاز کے سفر کو قابل اطمینان سفر بتایا ہے اور حضور کی خدمت میں بھی تحریک کی ہے کہ حضور ضرور تشریف لائیں چنانچہ حضور نے آج شام کے کھانے کے وقت میز پر فرمایا کہ جانے سے پہلے ایک دو دن ہم ہوائی جہاز کے راستہ سے برلن اور ہالینڈ ہو آ ئیں۔وہاں سے ہوتے ہوئے قافلہ کو پیرس آملیں گے۔یہ ارادہ ہے دیکھیں آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے۔حضرت میاں صاحب کے ناک کے اندر ایک پھنسی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہے۔دو تین دن سے چار پائی پر ہیں۔اللہ تعالیٰ صحت عطا فرمائے۔کل صبح حافظ صاحب ، مصری صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد آکسفورڈ یونیورسٹی دیکھنے کو جائیں گے۔شاید حضرت کا بھی ارادہ ہو جائے ابھی کوئی آخری رائے قائم نہیں ہوئی۔سکول آف اور مینٹ سٹڈی میں سر ڈینی سن راس نے فلسفۃ التاریخ کی کلاس بھی دکھائی جہاں دو مصری طالب علم تھے۔ان میں سے ایک نے مسئلہ نبوت پر گفتگو شروع کر دی۔گفتگو ابھی پوری نہ ہو چکی تھی کہ واپسی کا وقت آ گیا لہذا اس کو مکان پر آنے کی دعوت دی گئی اور اس نے کہا کہ میں نے ابھی اس مسئلہ پر بہت سی باتیں کرنی ہیں۔پٹنی (البیت ) کے سنگِ بنیاد کے دن انشاء اللہ آوے گا۔ایک ہسٹری کے انگریز پروفیسر سے حضور کی باتیں ہوئیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں تو انگریزوں کی تاریخ نویسی یا تاریخ دانی کا قائل نہیں رہا۔بہت کچھ غلط لکھتے ہیں اور تعصب سے بھی کام لیتے ہیں۔ایک بات جب سیوا جی کی طرف منسوب کی جاتی ہے تو بہت اچھی بتائی جاتی ہے اور اعلیٰ اخلاق اور بڑی بہادری کا نمونہ بنا لیا جاتا ہے مگر وہی بات اگر اور نگ زیب کے منہ سے نکلی ہوئی معلوم ہو تو بہت بُری اور قابلِ نفرت ہو جاتی ہے۔