سفر یورپ 1924ء — Page 394
۳۹۴ آج سے پہلے ہمارے سلسلہ کو یہ اہمیت نہ تھی کہ لوگ اس کی طرف توجہ کریں بلکہ سوائے شاذ کے کوئی نام سے بھی واقف نہ تھا مگر اب ہمارے آنے سے خدا نے اس قد را شاعت کر دی ہے اور شہرت اور اہمیت کے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ اب وہ روک ہمارے راستہ سے اُٹھ گئی ہے اور لوگ عام طور پر ہمیں جاننے لگے ہیں اور توجہ دنیا کی ہماری طرف پھرنے لگی ہے وغیرہ۔اس جواب کوسن کر دونوں نے پرنسپل اور اس کی سیکرٹری نے کہا۔"Very great achievement" خدا کے فضل سے اس جلسہ کے بہت بڑے فوائد نکلیں گے۔خیالات کو پلٹا دے دیا گیا ہے اور لوگوں میں ایک ہیجان پیدا کر دیا گیا ہے۔مردوں کی نسبت عورتیں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں اور جس بات کو سمجھ لیتی ہیں قبول کرتی ہیں اور پھر اس پر نہ صرف خود قائم ہو جاتی ہیں بلکہ ان باتوں کو آگے چلاتی ہیں۔ایک عورت تا رکہ ہے اس کے خیالات شادی کے خلاف ہیں۔رات حضور نے اس سے ایسے طرز پر گفتگو کی کہ آخر اس کو اقرار کرنا پڑا کہ میری غلطی تھی اب میں اس پر اور زیادہ غور کروں گی۔حضور نے اس کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آخر کسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے جو انسان اس غرض کو پورا نہیں کرتا وہ گویا خدا کا مقابلہ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ نسل انسان ترقی کرے مگر جو لوگ اس راہ میں روک بنتے ہیں وہ بغاوت کرتے ہیں وغیرہ۔ان باتوں سے متاثر ہو کر اس نے کہا کہ اور لوگ دنیا میں شادی بیاہ کرنے والے بھی تو موجود ہیں میں ایک اگر نہ کروں تو کیا حرج ہوگا ؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ خیالات ایک منتقل ہونے والی چیز ہیں اور وہ چلتے رہتے ہیں ایک سے دوسرے میں اور دوسرے سے تیسرے میں منتقل ہوتے ہیں ایک ہی جگہ نہیں ٹھہرا کرتے۔آج اگر دنیا میں ایک انسان اس خیال کا ہے تو تھوڑے ہی عرصہ میں ہزاروں نظر آنے شروع ہو جائیں گے اور اسی طرح سے اگر ہر ایک اپنے آپ کو اکیلا سمجھ لے گا تو ہوتے ہوتے آخر دنیا میں قطع نسل تک نوبت پہنچ جائے گی اور دنیا کی آبادی کوسخت دھکا لگے گا وغیرہ وغیرہ۔حضور نے بہت لمبی گفتگو کی تھی خلاصہ در خلاصہ یہی ہے۔مجھے اور بھی کام ہوتے ہیں۔جن کے لئے اُٹھنا پڑتا ہے اس وجہ سے تمام تر نہیں لکھ سکتا اور اگر میں تمام کے لکھنے کی کوشش کروں تو