سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 368 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 368

۳۶۸ نے اپنی سب عمر اسی کام میں خرچ کی ہے اور دنیا میں جو خیالات توحید کے نظر آتے ہیں وہ سب ان کی اور ان کے متبعین کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔والسلام حضرت اقدس کل ۴ بجے کے قریب واپس تشریف لائے۔کپڑے کی دکانات پر گرم کپڑا خریدنے کے لئے جانچ پڑتال کے بارہ میں وسیع معلومات بہم پہنچائے۔گرم کپڑا اس جگہ بہت ارزاں ہے خصوصاً ٹکڑے۔تین شلنگ سے چار پانچ شلنگ تک اعلی قسم کے ٹکڑے فی گز مل جاتے ہیں۔اوسط درجہ کا کپڑا تین شلنگ پر مل جاتا ہے۔ٹکڑوں کے بڑا چھوٹا ہونے پر بھی خرچ کم و بیش ہو جاتا ہے۔کھانا کھا کر حضور نے نماز میں ادا کرائیں اور کسی قدر دیر سے آج نمازیں پڑھی گئیں۔نمازوں کے بعد حضور پھر بعض کتب کے خریدنے کے واسطے تشریف لے گئے مگر کتابوں کی دکان بہت خراب تھی حضور کو وہاں تکلیف ہوگئی اور حضور جلدی واپس تشریف لے آئے۔کھانا بھی رات نہ کھایا اور نمازوں کے لئے بھی باہر تشریف نہ لا سکے۔یکم اکتوبر ۱۹۲۴ء : حضرت آج صبح کی نماز میں بھی تشریف نہیں لا سکے۔۲۹ ستمبر کو کا نفرنس والوں نے چندہ مانگا حضرت نے بھی ایک پونڈ اس چندہ میں دیا۔مسٹر داس گپتا جن کی سوسائٹی کا نام ایسٹ اینڈ ویسٹ ہے اس کی مدد میں بھی حضور نے دس پونڈ دیئے۔خلیفہ تقی الدین صاحب کی آمد پر حضرت نے جلدی سے اٹھ کر خلیفہ صاحب کو دیکھنے کی کوشش کی تو بعض دوستوں نے عرض کیا کہ حضور باہر بارش اور ٹھنڈی ہوا ہے یکدم باہر نکلنا اچھا نہ ہوگا اور وہ یہیں آ رہے ہیں حضور کیوں تکلیف کرتے ہیں۔فرمایا ! تم لوگ فلسفی ہو۔محبت کے جذبات کو کیا جانو یعنی حضور نے یوں اس وفور محبت اور جوش اُلفت کا اظہار کیا جو حضور کو عزیز سے تھی۔“ خلیفہ صاحب کا واقعہ تو میں پہلے کسی عریضہ میں لکھ چکا ہوں مگر مجھے خیال آتا ہے کہ یہ فقرہ شاید میں نے اس میں نہ لکھا ہو اس وجہ سے یہاں درج کر دیا ہے۔( حضور کا ورود انگلستان میں چونکہ ایک جرنیل کے رنگ میں ہے اس لئے حضور کے احکام