سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 326 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 326

٣٢٦ اُبھرنے کے لئے کسی تحریک کی ہی ضرورت تھی۔جنگ کے ختم ہوتے ہی ایسے سامان پیدا ہونے لگے کہ یہ تحریک بھی پیدا ہوگئی۔جنگ کے بعد لاکھوں آدمی جو جنگی کاموں پر مامور تھے فارغ ہو گئے اور ان کو اپنے گھروں میں واپس آکر ایسے کام نہ ملے جن سے ان کا ایسا گزارہ ہوسکتا جس کے اب وہ عادی ہو چکے تھے۔دوسرے ریکروٹنگ کے وقت لوگوں کو بہت امید میں دلائی جاتی تھیں کہ ان کو بہت سے فوائد ہوں گے اور چونکہ چند سال پہلے سرگودہا اور لائکپور میں آبادی کی خاطر گورنمنٹ نے لوگوں کو مربعے دیئے تھے حتی کہ بعض دفعہ اس وجہ سے دیئے تھے کہ فلاں شخص نے گاؤں میں سمال پاکس کا ٹیکا لگوایا تھا۔ہر ایک شخص جو جنگ کو جاتا تھا اسے یہ امید تھی کہ وہاں سے آتے ہی اسے کم سے کم ایک مربع زمین کا ضرور ملے گا۔گورنمنٹ کے پاس اس قدر زمین نہ تھی کہ سب کو خوش کر سکتی اس لئے واپس آنے والے سپاہیوں میں بے چینی پیدا ہوگئی۔اسی طرح جب صلح کی تجویز شروع ہوئی اور تعلیم یافتہ ہندوستانی جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ صلح کے ہوتے ہی ہندوستان کو بہت کچھ حقوق مل جائیں گے اس امید کے بر نہ آنے پر برافروختہ ہو گئے۔اگر مختلف ناموں کے ماتحت بعض اور ڈومینز کو فائدہ نہ پہنچتا تو یہ ہندوستانیوں کو اس قدرمحسوس نہ ہوتا مگر چونکہ گولفظ اقرار نہ کیا جاتا ہو مگر فی الواقع جنگ میں تعاون کی وجہ سے بہت سی نو آبادیوں کو فائدہ پہنچا اور اس کا اثر ہندوستان پر بہت ہی برا پڑا اور اس کا نقطہ نگاہ بالکل بدل گیا۔رولٹ ایکٹ اور تحریک خلافت ایسے بہانے بن گئے جن کی وجہ سے پوشیدہ خواہشات جو ملک میں پیدا ہوگئی تھیں بیدار ہوگئیں اور ایک سرے سے دوسرے تک لوگ سیلف گورنمنٹ کی نہ پوری ہونے والی امید کے حصول کے لئے کھڑے ہو گئے اور تمام مذکورہ بالا امور نے اس خواہش میں عوام الناس کو بھی شامل کر دیا۔میرے نزدیک ہندوستان میں امن کبھی قائم نہیں ہو سکتا جب تک انگلستان کے لوگ ان امور کو مدنظر نہ رکھیں جو ہندوستان میں بے چینی پیدا کرنے کا موجب ہیں اور وہاں کی اصل حالت سے واقف نہ ہوں گے اور میں آپ لوگوں کو بڑے زور سے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب سیلف گورنمنٹ کی تحریک صرف شہروں اور تعلیم یافتہ لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ تحریک گاؤں اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں پھیل گئی ہے۔عورتیں جو ہندوستان میں بہت ہی کم تعلیم رکھتی ہیں وہ بھی اس سے واقف ہوگئی ہیں۔چونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جنگ نے ہر ایک گاؤں کو طبعا