سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 325 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 325

۳۲۵ کرنا ایسا ہی تھا جیسے چاند کی خواہش کرنی۔جنگ میں جب اس کے گھر پر افسروں نے متواتر آنا اور یہ کہتا شروع کیا کہ اس وقت سرکار پر سخت مصیبت ہے۔ان کو سرکار کی مدد کر کے اپنی وفاداری کا ثبوت دینا چاہیے۔جرمن نے بلا وجہ سرکار انگریزی سے لڑنا شروع کر دیا ہے تو تمام ملک کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنکھیں کھل گئیں اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ دنیا میں ایک ہی حکومت نہیں ہے بلکہ اور بھی ہیں اور جوں جوں ریکروٹنگ پر زور دیا جانا شروع ہوا لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بڑھتا گیا کہ جرمنی کی حکومت انگریزوں سے زیادہ زبر دست ہے اور یہ کہ ہندوستان ایسا کمزور نہیں ہے۔اس وقت انگلستان اپنے بچاؤ کے لئے اس کی مدد کا محتاج ہے۔جنگ سے پہلے لوگ اس قدر اخبار پڑھنے کے عادی نہ تھے لیکن جب ہر قصبہ سے لوگ جنگ پر جانے شروع ہو گئے تو ان کے عزیزوں اور رشتہ داروں نے قدرتاً اخباروں کا مطالعہ شروع کیا تا کہ ان کو جنگ کے حالات معلوم ہوتے رہیں اور دل کو ایک حد تک تسلی رہے۔اس اخباری مطالعہ سے ان کی عام علمیت میں بھی اضافہ ہوا مگر جنگی نقصانات کے حال پڑھ کر اور یہ دیکھ کر کہ سب طرف سے جرمن کا ہی شور ہے ان کے دلوں میں یہ خیال اور بھی مضبوط ہو گیا کہ انگریزی حکومت ایسی مضبوط نہیں جیسی کہ وہ سمجھتے تھے بلکہ ان کے تو ہمات نے جرمن کی طاقت کے ایسے نقشے کھینچ دیئے کہ ان کو سن کر انسان حیران ہو جاتا ہے۔وہ ان اخبار کے ساتھ ساتھ وہ قومی آزادی کے مضمون بھی پڑھتے رہتے جو اخباروں میں چھپتے تھے اور اس سے ان کی سیاسی دلچسپی ترقی کر گئی۔عوام الناس پر تو یہ اثر پڑا۔تعلیم یافتہ طبقہ پر جنگ کا یہ اثر پڑا کہ جنگ کے دوران میں اس مسئلہ پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ کسی حکومت کو حق نہیں کہ وہ کسی ملک کی آبادی کی مرضی کے خلاف اس پر حکومت کرے اور اس پر اس قدر زور دیا گیا کہ یہ اصل ایک ازلی مذہبی اصل کی طرح مقدس ہو گیا۔ہندوستان کے بعض ہوشیا رسیاسی لیڈروں نے خوب پھیلا پھیلا کر اس اصل کو شائع کیا اور اس موقع کی انتظار بڑے شوق سے کرنے لگے جبکہ اس اصل کو استعمال میں لایا جائے گا۔خلاصہ یہ کہ جنگ کے دوران میں ہندوستان کا سیاسی مطلع بالکل بدل گیا۔اور دوسرے طبعی حالات سے مل کر اس نے ہندوستان میں ایسا تغیر پیدا کر دیا ہے کہ انسان اس کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔اس تغیر نے لوگوں کے اندر سیلف گورنمنٹ کی ایک پوشیدہ خواہش پیدا کر دی جس کے