سفر یورپ 1924ء — Page 22
Tuesday۔۲۲ Khalifatulmassih میں نے حضور کے تار کے اصل الفاظ لکھ کر جو حضور نے اپنے قلم سے لکھے اور تار میں اپنا نام لکھنے کی ہدایت کی میں سمجھتا ہوں سفر کی اصلی حالت کا پورا فوٹو آپ تک پہنچا دیا ہے۔حضور کے الفاظ "The last five days experince beyond description۔" ساری حقیقت کے انکشاف کے لئے کافی ہیں۔الفاظ یہ ہیں اور ان کے لکھنے والا وہ انسان ہے جس کا نام خدا نے اولوالعزم رکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ میں نے سفر کی حالت کا پورا فوٹو آپ تک پہنچا دیا ہے۔اس تار کے ساتھ ساتھ ایک اور تار حضور نے عدن کے ڈاکٹر جلال الدین صاحب کو دیا کہ ہم انشاء اللہ منگل کو عدن پہنچیں گے دوسرے احمدیوں کو بھی اطلاع دے دیں۔آج شام اور عشاء کی نمازیں حضور نے خود باجماعت ادا کرا ئیں اور اپنے کمرے میں تشریف لے گئے۔جہاز کے سفر میں یہ پہلا دن تھا کہ حضور نے اپنے کمرہ سے باہر دوستوں میں مل کر با جماعت مغرب و عشاء پڑھائی۔یوں تو حضور نے کوئی نماز تنہا نہیں پڑھی با جماعت ہی پڑھتے رہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ حضور کے پاس رہتے تھے ان کو ساتھ لے کر نماز با جماعت کرالیتے تھے۔ٹھیک ساڑھے چار دن کے بعد شیخ عبدالرحمن صاحب مصری اپنی جگہ سے اُٹھے ، ہوش سنبھالے اور اپنے آپ میں قائم ہوئے۔اس سارے عرصہ میں انہوں نے بمشکل ۶ سنترہ کھائے ہوں گے یا ایک دو لیموں اور دو ایک مرتبہ چٹنی کے دو لقمے اور بس۔مگر اب اُٹھتے ہی وہ ساری کسریں نکالنے لگے ہیں۔پلاؤ ، زردہ ، قورمہ ، مرغ اور مچھلی یا دکراتے ہیں اور ہمارے آلو چاول کو کھانا پسند نہیں کرتے۔کل شام حضور نے جہاز کے عملہ اعلیٰ اور خاص خاص مسافروں کو ایک ڈنر دینے کا ارادہ فرمایا جس کے لئے میاں رحمد بین صاحب سے پوچھا کہ کیا کیا پکا سکو گے۔پلاؤ اعلیٰ قسم ، زردہ عمدہ ترین ، ایک قسم کا گوشت سبزی والا سالن بیٹھی دال اور بادام کی مٹھائی کی تجویز ہوئی جس کے لئے حکم ہوا کہ عدن پہنچتے ہی تمام سامان عبدالرحمن قادیانی خریدے۔دعوت عدن سے نکل کر دی جاوے