سفر یورپ 1924ء — Page 300
۳۰۰ بعد ہا آپ کا پرچہ جو کہ آپ نے لکھا ہے مسٹر ظفر اللہ خان بی۔اے۔ایل۔ایل - بی بیرسٹرایٹ لاء پڑھ کرسنائیں گے۔“ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حسب ذیل چند الفاظ فرمائے۔بہنو اور بھائیو! سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس وقت ممبران کا نفرنس کے سامنے بعض خیالات پیش کروں گا تا کہ آپ لوگ ان اہم مسائل پر پوری طرح غور و خوض کر کے اپنے لئے یہ فیصلہ کر سکیں کہ کونسا مذ ہب قبول کریں گے۔“ حضرت خلیفہ المسیح نے اپنے پرچہ میں جماعت کی ابتدائی تاریخ اور اس کی تمہیں سالہ ترقی مختلف ممالک ہندوستان، انگلستان، امریکہ، نائیجیریا، گولڈ کوسٹ ، مصر، ماریشس ، سیلون، ہانگ کانگ، آسٹریلیا، ٹرینیڈاڈ ، فلپائنز اور میسوپوٹامیہ وغیرہ میں باوجود اس سخت مخالفت اور ظلم و تعدی کے ہوتی گئی جس کی تازہ مثال مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی کابل میں سنگساری ہے بیان فرمائی۔علاوہ ازیں اس پر چہ نے اسلام کے متعلق بہت سی بدظنیوں کو دور کر دیا اور اس بات پر خاص زور دیا گیا کہ زندہ مذہب وہی ہے جو زندہ خدا کو پیش کرے۔صرف مسلمان ہی اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ اپنی اس زندگی میں حاملِ کلامِ خدا ہو سکتے ہیں اور اس کو عملی طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کے بانی سے اس طرح کلام کیا جس طرح وہ گذشتہ تمام انبیاء سے کرتا رہا۔پر چہ کو سامعین کے سامنے ختم اس اپیل پر کیا گیا کہ وہ اس شخص کے دعویٰ پر ادب اور سنجیدگی کے ساتھ غور کریں جو کہ تمام گذشتہ معلمین اور مسجد ڈین کی قوت اور روح کے ساتھ آیا ہے۔جس وقت یہ پرچہ پڑھا گیا ہال کی تمام جگہیں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں اور سامعین نے اُسے پوری توجہ سے سنا۔صدر سر تھیوڈور مارلین نے آپ کو آپ کے پرچہ کی کامیابی پر مبارک باد دی اور اس اثنا میں سامعین کی طرف سے تعریف اور تحسین کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔میں آج اس کوشش میں ہوں کہ یہ عریضہ ہوائی ڈاک سے پوسٹ کر دوں تا خدا تعالیٰ چاہے تو مارسلز سے کل کی ڈاک کو پکڑ کر اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان پہنچ سکے۔خدا تعالیٰ کرے ایسا