سفر یورپ 1924ء — Page 267
۲۶۷ تعلقات کو بتایا ہے اور ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا ہم بھی خواجہ صاحب کے ساتھ ہیں۔میں پوری طرح سمجھ نہیں سکا کہ تفاصیل کیا ہیں۔حضرت اقدس نے ان سب اخبارات کو جواب دینے کا حکم دیا ہے۔بعض کی تردید فرمانے کا ارشاد فرمایا ہے اور بعض کی اصلاح فرمانے کا حکم دیا ہے مگر مزیدار جواب وہ ہو گا جو عیسائیت کے مضامین سننے پر عیسائی ہو جانے کی امید لگائے بیٹھا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس کو لکھا جاوے کہ ہم ضرور وہ مضامین سنیں گے۔آپ کا احسان ہوگا اگر ان عیسائی لیکچراروں کے نام اور لیکچروں کی تاریخیں اور وقت سے آپ ہم کو اطلاع دے دیں۔مذہبی کا نفرنس نے اعلان کرنے میں ستی کی ہے اور ہمیں علم نہیں ہو سکا کہ کب اور کس عیسائی کا مضمون اس سوسائٹی میں پڑھا جائے گا۔آپ جیسے باخبر اخبار سے یقیناً ہمیں فائدہ ہوگا اور آپ کی اطلاع آنے پر ہم ضروران مضامین کوسن کر غور کرنے کے قابل ہوسکیں گے“۔اصل بات یہ ہے کہ عیسائیوں کا کوئی مضمون اس مذہبی کانفرنس میں پڑھا ہی نہ جائے گا۔اس بیچارے اخبار نے یونہی بے خبری سے ایسا لکھ دیا ہے۔مولوی محمد دین صاحب سے میں نے ان کا مضمون لیا ہے جو اس عریضہ کے ساتھ ہی قادیان بھیجتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ۔انہوں نے بہت محنت سے تیار کیا ہے۔شاید قادیان میں کسی کام آ سکے۔مضمون قلمی ہے اور ۱۹ صفحات پر مشتمل ہے۔۱۷ صفحات لکھے ہوئے ہیں اور پہلے دو اوراق پر A اور B لکھا ہوا ہے۔جو مضمون حضرت اقدس نے پورٹ سمجھ میں پڑھ کر سنایا اس کا اصل تو میں نے اسی عریضہ میں نقل کر دیا ہے مگر اس کی ایک کا پی نقل ٹائپ کی یا اصل خود جناب چوہدری صاحب کی دستخطی بھی لے کر انشاء اللہ اسی عریضہ کے ساتھ روانہ کروں گا۔گورنمنٹ آف انڈیا کو شملہ میں حضرت اقدس نے ایک لمبا تار دلایا تھا جس پر ۲۰ پونڈ خرچ ہوئے اس کا جواب اب تک کوئی نہیں آیا۔حضرت اقدس آج فرماتے تھے کہ دو ایک دن اور انتظار کر کے ایک اور تار دلایا جاوے گا۔