سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 252 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 252

۲۵۲ "You can never abtain the pleasure of God untill you forsake your own pleasures, your enjoyments, your position, your property and your life; and in his path meet every difficulty which brings before your eyes the scene of death۔But if you meet all difficulties you will be taken into the bosom of God, like a dear child, and made heirs, to the righteous, who have gone before you and the doors of every blessing will be opened to you"۔دیکھو خدا نے یسعیاہ نبی کی پیشگوئی کے مطابق مشرق سے ایک راستباز کو برپا کیا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ اپنی مرضی کو تمہارے تک لایا ہے۔کیا میں امید رکھوں کہ تم اس کو دلی شوق سے قبول کرو گے اور اس کے پیغام کے لئے مغربی ممالک میں پہلے جھنڈے بردار ہو گے اور میں تم کو اسی علم کے ماتحت جو خدا تعالیٰ نے مجھ کو دیا ہے تم کو یقین دلاتا ہوں کہ تب قو میں تم سے برکت پائیں گی اور آئندہ آنے والی نسلیں تم پر برکتیں بھیجیں گی اور تم خدا میں ہو کر غیر فانی ہو جاؤ گے۔فقط یہ ہے سید نا حضرت فضل عمر فخر رسل اولوالعزم حضرت خلیفہ المسیح والمہدی کا وہ مضمون جو حضور نے کل لکھا اور ۲۸ صفحات پر ختم فرمایا جس کا ترجمہ ساتھ ساتھ ہوتا گیا اور یہ خاکسار آپ بزرگوں کے لئے ساتھ ساتھ نقل لیتا رہا۔مضمون خود بتائے گا کہ وہ کیا ہے اور کس دل اور دماغ سے نکلا ہے۔کس قوت اور یقین سے لکھا گیا ہے۔مبارک وے جو قبول کریں۔ترجمہ کرنے والے مقدس انسان کو بھی اللہ کریم مورد برکت و رحمت بنا دیں جو اخلاص ، شوق اور محبت سے یہ کام کر رہے ہیں۔حضور کے ساتھ پورٹ سمتھ صرف پانچ آدمی جائیں گے ا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب -۲- مولوی محمد دین صاحب ۳ - ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب -۴- مولوی عبدالرحیم صاحب در داور ۵- مکرم عرفانی صاحب- باقی تمام دوست مکان پر لنڈن میں رہیں گے۔پچھلی مرتبہ برائیٹین میں ایک دن کا خرچ پانچ سو کے قریب ہو گیا تھا اس وجہ سے اب کے زیادہ قافلہ ساتھ نہیں لے جایا گیا۔مضمون حضور کا لکھا ہوا اتوار کی شام کو 4 بجے کے بعد پڑھا جاوے گا جس کے لئے اہالیان پورٹ سمتھ نے وقت کی تعیین نہیں کی اور حضور کو کھلا وقت دیا ہے مگر حضور نے لوگوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور وقت کی تنگی کی وجہ سے صرف قریباً ایک گھنٹہ میں پڑھا جانے کا مضمون رقم فرمایا ہے تا کہ لوگ گھبرا کر اُٹھنے نہ شروع ہو جائیں اور اتنا لکھا ہے کہ شوق سے لوگ سن سکیں۔