سفر یورپ 1924ء — Page 238
۲۳۸ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ہر اک زمانہ میں اپنا پیغام دنیا کی طرف بھیجتا ہے ورنہ ہم اپنے ایمان میں متضاد باتوں کو جمع کرنے والے بنیں گے۔جب ہم اس نتیجہ پر پہنچ جاویں کہ خدا تعالیٰ کا کلام جب بھی اس کی ضرورت ہو نا زل ہونا چاہیے تو گویا ہم خدا کے پیغام کو قبول کرنے کے مقام کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہیں اور اپنے دل کی ایک کھڑکی کو کھول دیتے ہیں مگر ابھی ہمارے لئے ایک قدم اُٹھانا اور باقی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیا ہمارے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغام آنے کی ضرورت ہے؟ اگر ضرورت ثابت ہو جائے تو ہمارا دل خدا کے پیغام کو سننے کے لئے بالکل تیار ہو جاتا ہے۔چونکہ ہم اس کے قانون کو جب دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جہاں ضرورت ہے وہاں اس کے پورا ہونے کے سامان بھی موجود ہوتے ہیں اگر ضرورت ہے تو ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو پورا بھی کیا ہو۔اے بہنو اور بھائیو! غور کر کے دیکھو کہ خدا کے کلام اور اس کے پیغام کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟ کیا یہی نہیں کہ لوگوں کو اس کی ذات کی نسبت کامل یقین ہو اور وہ اس کی کامل محبت اور اس کے کامل عرفان کے ذریعہ سے اپنے نفس کی اصلاح کرنے پر قادر ہوں اور ایسی طاقتیں حاصل کر لیں جن کے ذریعہ سے اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی خدا تعالیٰ کے وصال کو پائیں جو انسانی پیدائش کی اصل غرض ہے۔پھر غور کرو کہ کیا یہ باتیں دنیا میں پائی جاتی ہیں؟ کیا اس زمانہ کے لوگ فی الواقع خدا پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا ان کے دلوں میں اس کی ویسی ہی محبت ہے جیسی کہ ہونی چاہیے اور وہ اس کے احکام کو اپنے اعمال پر اسی طرح حاکم بناتے ہیں جس طرح کہ ان کو حاکم بنانا چاہیے اور کیا فی الواقع ان کو وہ روحانی طاقتیں حاصل ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کے واصل باللہ ہونے کا علم ہوتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے ہر اک نے کم سے کم بائیل پڑھی ہوگی یا اس کے بعض حصوں کو دیکھا ہوگا۔آپ لوگ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ جن کا بائیل میں ذکر ہے کیا آج بھی پائے جاتے ہیں؟ کیا آج بھی اللہ تعالیٰ ان کے لئے اس قسم کے نشانات دکھاتا ہے؟ اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں بلکہ دنیا خدا تعالیٰ پر ایمان سے خالی ہے۔دہریت کا زور ہے۔بجائے خدا تعالیٰ سے محبت ہونے کے روپیہ اور مال اور عزت سے محبت ہے۔بجائے بنی نوع انسان کی ہمدردی کرنے کے لوگ ایک دوسرے کا حق مارنے کی فکر میں رہتے ہیں۔بجائے اس کے کہ