سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 237 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 237

۲۳۷ منزل مقصود تک پہنچے کا صحیح راستہ ہے۔میری غرض اس تمام تمہید سے یہ ہے کہ پیغام آسمانی کوئی معمولی بات نہیں کہ انسان اس کی طرف سے منہ پھیر لے اور کچھ ضرر نہ پائے بلکہ وہ طبعی قانون کی طرح ایک روحانی قانون ہے جس کی خلاف ورزی روحانی صحت سے انسان کو محروم کر دیتی ہے جس طرح زہر کھا کر کوئی انسان اس کے اثر سے بچ نہیں سکتا اس طرح خدا کے کلام کا انکار کر کے بھی انسانی روح اس کے بداثر سے بیچ نہیں سکتی۔اس کے مطابق عمل کرنا اس پر احسان نہیں بلکہ اپنی جان پر احسان ہے اور اس کی خلاف ورزی سے خدا تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں بلکہ اس میں ہمارا اپنا نقصان ہے۔پیغام آسمانی کی اہمیت کے بتانے کے بعد میں آپ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ چونکہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرے اور تقدس اور کمال پیدا کرے۔اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے پیغام اس کو ملتے رہیں جو اس کی توجہ کو قائم رکھیں اور اس کی دلچسپی کو باطل نہ ہونے دیں۔یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ جس کی نسبت ہم یقین رکھتے ہیں کہ منبع علم و حکمت ہے وہ انسان کو ایک خاص غرض کے لئے پیدا کر کے پھر اس کو چھوڑ دے گا کہ اب جو چاہے کرتا پھرے اور اس طرح اپنے کام کو خود باطل کر دے گا۔تجر بہ بھی اس نتیجہ کی تصدیق کرتا ہے۔کوئی ملک کوئی قوم ہمیں ایسی نظر نہیں آتی جس میں الہام الہی کا خیال کسی نہ کسی وقت نہ پایا جاتا ہو اور جس میں ایسے لوگوں کا پتہ نہ لگتا ہو جو الہام کے مدعی تھے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب جھوٹے تھے یا یہ کہ سب کے سب اعصابی مرضوں کے شکار تھے کیونکہ دنیا کے اخلاق اور اس کے تمدن کا نقطہ مرکزی یہی لوگ نظر آتے ہیں اور ان کو الگ کر کے دنیا بالکل خالی نظر آتی ہے۔قرآن کریم اس مضمون کے متعلق فرماتا ہے۔وَإِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذیر کوئی قوم نہیں جس میں نبی نہ گزرا ہوا اور یہی امر صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے۔وہ خدا جس نے انسان کو ایسی طاقت کے ساتھ پیدا کیا ہے جو اسے ترقیات کے بلند مقام تک لے جاسکتی ہیں اس کو ایسی قوتوں کے ساتھ پیدا کر کے یونہی نہیں چھوڑ سکتا تھا اور وہ خدا جس کی نظر میں سب بنی نوع انسان ایک ہیں اور وہ سب سے یکساں محبت کرتا ہے باقی سب اقوام کو چھوڑ کر ایک قوم کو اپنی وحی سے مخصوص نہیں کر سکتا تھا۔اگر ہم ایک رحیم خدا پر ایمان لائیں گے تو ساتھ ہی ہم