سفر یورپ 1924ء — Page 216
۲۱۶ روپیہ مانگتے ہیں۔مضمون کچھ کم کر دیا ہے۔سابق ڈپٹی کمشنر گورداسپور سے ملاقات : 9 ستمبر ساڑھے پانچ بجے مسٹر واٹسن ملاقات کے لئے آئے۔ان سے حضور کے انتظار کا ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے تو ساڑھے پانچ بجے ہی کی ملاقات کے لئے ٹیلیفون کیا تھا۔مولوی محمد دین صاحب کہتے ہیں کہ شاید مجھے سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔بہر حال وہ آئے حضرت کی خدمت میں عرض کیا گیا۔حضور تشریف لائے ہیں اور ریڈنگ روم میں ان سے باتیں ہو رہی ہیں۔پورا ایک گھنٹہ گفتگو ہوتی رہی۔اس کے بعد مسٹر واٹسن چلا گیا اور حضور نے نمازیں ادا کرائیں اور تھوڑی دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔فرمایا ! مسٹر واٹسن کا خیال تھا کہ وہ مجھے بھی بچوں کی تربیت کی ایسوسی ایشن کا ممبر بنائے۔کہتا تھا کہ صرف ایک شلنگ فیس ادا کرنے سے ممبر ہوسکتا ہے۔دراصل وہ اردو اب بھول گیا ہے اس وجہ سے اس کی بات کے سمجھنے میں اولاً مجھے بھی غلطی ہی رہی مگر بعد میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے ممبر بننے کی تحریک کرتا تھا۔حضور نے فرمایا کہ ارادہ ہے کہ ہم یہاں کے مقامی مبلغ کو لیبر پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ کا مبر کھڑا کر دیں۔مولوی عبدالرحیم صاحب درد کا نام بھی لیا۔دوسو پونڈ کے خرچ سے ایسا ممکن ہے جیسا کہ مسٹر واٹسن نے بتایا۔اس سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایک پارٹی سے خواہ مخواہ کے تعلقات بنے رہیں گے کیونکہ آخر وہ ممبران کی امداد کرے گا جس سے ان کی ہمدردی اور توجہ ہمارے ساتھ ہو جائے گی اور کیا عجب کہ یہی ذریعہ تبلیغ کارگر ہو جائے۔ہمارا کام کوشش کرنا اور خدا کے بتائے ہوئے سامانوں کا جمع کرنا ہے۔تو کل ہمارا اور بھروسہ خدا کے سوا کسی پر نہیں۔حضور کے مضمون کا ترجمہ چوہدری صاحب نے ختم کر کے ٹائپسٹ (Typist) کو دیا وہ ٹائپ ہو کر آ گیا۔حضور نے اس کو پڑھنا شروع فرمایا اور اپنے کمرہ میں تشریف لے گئے اور جاتے ہوئے فرمایا کہ آج تو مضمون بھی میں نے خود ہی پڑھنا ہے چنانچہ رات کو حضور نے خود ہی وہ مضمون پڑھا۔گلڈ ہاؤس میں جلسہ کی کارروائی سوا آٹھ بجے شروع ہونے والی ہے۔ان دنوں مولوی محمد دین صاحب ناظر اعلی کی ڈیوٹی پر ہیں۔چوہدری فتح محمد خان صاحب پرائیویٹ